امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کیساتھ طویل مذاکرات ہوئے لیکن کسی حتمی معاہدہ پر نہیں پہنچے اور بغیر کسی ڈیل کے امریکا واپس جا رہے ہیں۔
نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات کے بعد اسلام آباد میں پریس بریفنگ میں بتایا کہ ہمارے ایران کیساتھ طویل مذاکرات ہوئے ہیں، لیکن بری خبر یہ ہے کہ ابھی تک حتمی معاہدے تک نہیں پہنچے اور یہ امریکا سے زیادہ ایران کیلئے بری خبر ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 21 گھنٹے سے مذاکرات جاری تھے جن میں مختلف امور پر بات چیت ہو رہی تھی، مذاکرات میں نیک نیتی کیساتھ شرکت کی، ہم نے مذاکرات میں لچک دکھائی اور اپنی شرائط واضح طور پر پیش کیں، ایران نے امریکی شرائط تسلیم نہ کرنے کا انتخاب کیا۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ ایرانی وفد سے جوہری ہتھیاروں سے متعلق کوئی واضح عزم نہیں سنا، ہمیں واضح اور مثبت تصدیق درکار ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کریگا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس یورینیم افزودگی کی تنصیبات ہیں جو تباہ کردی گئی ہیں، ہم چاہتے ہیں ایرانی ایسے آلات حاصل نہ کریں جن سے وہ جلد نیوکلیئر ہتھیار بنا سکتے ہوں، ہم یہ عزم چاہتے ہیں کہ ایران مستقبل میں نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنائیگا۔
انکا کہنا تھا کہ ہم نے اپنی ریڈ لائنز اور جن چیزوں کو موزوں بناسکتے ہیں وہ بتادی ہیں، ایرانیوں کو وہ چیزیں بھی بتائیں جو ہم ایڈجسٹ نہیں کرسکتے۔
انہوں نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے کہا تھا اچھی نیت سے جائیں، ڈیل کی ہر ممکن کوشش کریں، ہم مسلسل صدر ٹرمپ سے رابطے میں تھے، کم سے کم 6 بار یا 12مرتبہ ان سے بات کی، ہم نے ایڈمرل کوپر، وزیر جنگ ہیگیستھ، وزیر خارجہ روبیو سے بھی بات کی، ہم نے قومی سلامتی ٹیم، وزیر خزانہ سکاٹ بیسینٹ سے بھی بات کی۔
امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ امریکا کیلئے اچھی خبر یہ کہ ایرانیوں سے کئی ٹھوس امور پر بات چیت ہوئی اور بری خبر یہ ہے کہ ایرانیوں سے معاہدہ نہیں ہوا ۔
جے ڈی وینس نے کہاکہ ہم وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے شکر گزار ہیں، دونوں نے حیرت انگیز کام کیا، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے امریکا ایران اختلافات دور کرکے ڈیل کرنے کی کوشش کی۔
بعدازاں نائب امریکی صدر وفد کے ہمراہ اسلام آباد سے واپس امریکا روانہ ہوگئے۔


