اسلام آباد (شِنہوا) پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہاں امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے متوقع مذاکرات ہونے جا رہے ہیں، جس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ مشرق وسطیٰ اور اس سے باہر جاری پرتشدد کشیدگی کو کم کیا جا سکے گا۔
ایک ماہ سے زائد ہلاکت خیز جھڑپوں کے بعد امریکہ اور ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقرر کردہ ڈیڈ لائن ختم ہونے سے دو گھنٹے سے بھی کم وقت پہلے دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کیا اور اسلام آباد میں مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا۔
گزشتہ ماہ سے جب کشیدگی بے قابو ہونے کا خطرہ بڑھا، پاکستان صرف ایک تماشائی نہیں رہا بلکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک فعال سفارتی پل بن کر سامنے آیا۔ ماہرین اور علاقائی حکام کے مطابق پاکستان ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ اس کے دونوں ممالک سے تعلقات ہیں، امن کے قیام میں اس کے اپنے اہم مفادات ہیں اور اس کی سفارتی رابطوں کی ایک تاریخ بھی موجود ہے، جس نے اسے اس عالمی اثرات رکھنے والے بحران کو کم کرنے کے لئے موثر کردار دیا ہے۔
اس صورتحال نے ایک سوال کو جنم دیا ہے کہ ایک جنوبی ایشیائی ملک ہونے کے باوجود پاکستان مشرق وسطیٰ کے تنازع کو ختم کرانے میں کیوں نمایاں ہے؟
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی امن کوششیں دراصل اس کی اپنی ترقیاتی ضروریات سے جڑی ہوئی ہیں۔
پاکستان کی ایران کے ساتھ تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے جبکہ مغربی سرحد پر اسے پہلے ہی بلوچ علیحدگی پسندوں کی شورش کا سامنا ہے۔ ایران میں وسیع جنگ کی صورت میں سرحد پار شدت پسند گروہوں کو حوصلہ مل سکتا ہے جس سے پاکستان کی پہلے سے نازک سکیورٹی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
معاشی طور پر بھی خطرات بہت زیادہ ہیں۔ پاکستان آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تیل کی سپلائی پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ حالیہ کشیدگی نے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا جس سے ملک کو شدید معاشی اور توانائی کے جھٹکے لگے۔
سکیورٹی اور معیشت کے علاوہ کامیاب ثالثی پاکستان کو عالمی سطح پر اپنی مثبت شناخت بہتر بنانے کا موقع بھی دے سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو اس سے پاکستان کے واشنگٹن، تہران اور خلیجی عرب ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط ہوں گے جبکہ جنوبی ایشیا میں اس کا مقام بھی بلند ہوگا۔
پاکستان کی خاص بات یہ ہے کہ وہ دونوں فریقوں سے قابل اعتماد انداز میں بات کر سکتا ہے۔
پاکستان کی ثالثی کو وسیع بین الاقوامی حمایت بھی حاصل ہوئی ہے۔


