ایران نے امریکا کیساتھ مذاکرات سے پہلے اہم مطالبات کو تسلیم کرانے کی کوشش شروع کر دی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس سے قبل ایران کی تجاویز 5 نکات پر مشتمل تھیں لیکن اب یہ امریکا کی پندرہ نکاتی تجاویز کے جواب میں دس نکات پر مبنی ہیں، ان تجاویز میں پابندیوں کے خاتمے، یورینیم کی افزودگی پر کسی حد تک سمجھوتہ اور آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کیلئے پروٹوکول شامل ہیں۔
ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے حاصل ہونیوالا ٹیکس ملک کی تعمیر نو اور جنگ میں ہونیوالے نقصانات کی تلافی کیلئے استعمال کیا جائیگا، ایران کا موقف ہے کہ وہ جنگ کا مستقل خاتمہ چاہتا ہے محض جنگ بندی نہیں، یہ مطالبہ پورے خطے میں تمام محاذوں پر لاگو ہوگا جس میں حزب اللہ، حوثی اور دیگر علاقائی اتحادی بھی شامل ہیں۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ ان نکات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا اور اگر ابتدائی طور پر کم از کم بنیادی اصولوں کے طور پر ان مطالبات کی منظوری نہ دی گئی تو سنجیدہ مذاکرات میں حصہ لینے کو تیار نہیں۔


