ہومتازہ ترینچین تکنیکی اختراعات کے ذریعے صاف توانائی کی جانب منتقلی کو تقویت...

چین تکنیکی اختراعات کے ذریعے صاف توانائی کی جانب منتقلی کو تقویت دینے لگا

جنان (شِنہوا) چین کے مشرقی صوبے شان ڈونگ کے شہر تائی آن میں نمک کی ایک متروکہ کان میں بجلی پیدا کرنے کا ایک بڑا منصوبہ قائم کیا گیا ہے جس نے وسائل پر انحصار کرنے والے اس شہر کی شناخت کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

اس منصوبے کے آپریٹر چائنہ انرجی انجینئرنگ گروپ کمپنی لمیٹڈ کے پروجیکٹ منیجر لیو شاؤ یونگ نے کہا کہ یہ سٹیشن 8 گھنٹے تک توانائی ذخیرہ کرنے اور 4 گھنٹے تک بجلی پیدا کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس کی سالانہ پیداوار 46 کروڑ کلو واٹ آور تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ پیداوار 2 لاکھ سے زائد گھرانوں کی بجلی کی سالانہ طلب کو پورا کرنے کے لئے کافی ہے۔

کمپنی کے پہلے تجارتی کمپریسڈ ایئر انرجی سٹوریج منصوبے کے طور پر یہ سٹیشن برسوں کی کان کنی کے بعد بچ جانے والے نمک کے زیر زمین غاروں کو توانائی کے ذخائر میں تبدیل کر دیتا ہے۔ کم طلب کے اوقات میں بجلی کو ہوا دبانے اور اسے زیر زمین ذخیرہ کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور پھر زیادہ طلب کے اوقات کے دوران اسی دبی ہوئی ہوا کو خارج کر کے بجلی پیدا کی جاتی ہے۔

حالیہ برسوں میں چین نے قابل تجدید توانائی کی پیداوار میں کئی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال کی بدولت 2025 تک قابل تجدید توانائی کی تنصیبات ملک کی مجموعی گنجائش کے نصف سے زیادہ ہو گئی تھیں۔ اس پیش رفت نے چین اور دنیا بھر میں صاف توانائی کی طرف منتقلی کے عمل کو زبردست تقویت فراہم کی ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں