باکو (شِنہوا) "ہیلو، چائنیز!” گرم جوشی سے بھرا یہ سلام آذربائیجان کے دوسرے سب سے بڑے شہر گنجہ میں سڑک کے کنارے ایک چائے خانے سے سنائی دیتا ہے، جہاں مقامی لوگ چائے پیتے اور گفتگو کرتے ہوئے شِنہوا کے رپورٹر کو خوش آمدید کہنے کے لئے مسکراتے ہیں۔
دارالحکومت باکو سے تقریباً 300 کلومیٹر مغرب میں واقع گنجہ 12 ویں صدی کے عظیم شاعر نظامی گنجوی کا آبائی شہر ہے۔ اپنی طویل داستانی نظموں کے لئے مشہور نظامی کی "خمسہ” دنیا بھر میں فارسی ادبی روایت میں ایک بلند اور اعلیٰ مقام رکھتی ہے۔ مقامی لوگوں کے لئے چین سے پہلی واقفیت اکثر جدید خبروں سے نہیں بلکہ نظامی کی شاعری سے شروع ہوتی ہے، جو آٹھ صدیوں سے زیادہ عرصے سے شہر کی تاریخی یادداشت میں پیوست ہے۔
نظامی کے مقبرے پر مقامی پرائمری سکول کی معلمہ زینیات نے اپنے طلبہ کے لئے معلوماتی دورہ کرایا۔ انہوں نے رپورٹر کو بتایا کہ طلبہ چوتھی جماعت میں شاعر کی نظمیں پڑھنا شروع کرتے ہیں۔
مقامی گائیڈ الماز نے رپورٹر کو بتایا کہ نظامی کا مقبرہ آذربائیجان کے زائرین کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی عقیدت مندوں کو بھی اپنی طرف کھینچتا ہے۔ انہیں خوشی ہوئی کہ شاعر کو چین میں جانا جاتا ہے، 2012 میں چین اور آذربائیجان کے سفارتی تعلقات کی 20 ویں سالگرہ پر بیجنگ میں نظامی کا ایک مجسمہ نصب کیا گیا اور سکول کے بچے چینی زبان میں ان کی نظمیں پڑھ رہے تھے۔
گنجہ بھر میں نظامی کی موجودگی نمایاں طور پر محسوس کی جاتی ہے۔ اکثر ان کے مجسموں کے قدموں کے پاس تازہ پھول رکھے جاتے ہیں۔ گنجہ مال، جو شہر کا سب سے بڑا خریداری مرکز ہے، کے اندر شاعر کی "خمسہ” کتابیں دکانوں کی الماریوں میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں۔
12 ویں اور 13 ویں صدی میں گنجہ قدیم شاہراہ ریشم پر تجارت اور دستکاری کا ایک اہم مرکز تھا۔ مورخین کا ماننا ہے کہ نظامی نے اپنی خمسہ میں چینی شہزادی کی تصویر مشرقی کہانیوں سے متاثر ہو کر بنائی، جو اسی تجارتی راستے سے گزرتی تھیں۔ آج یہ شہر بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو میں آذربائیجان کی شمولیت کا ایک اہم مرکز ہے، جہاں ٹرانس کیسپین بین الاقوامی ٹرانسپورٹ روٹ (جو درمیانی راہداری کے نام سے بھی جانا جاتا ہے) اس سے گزرتی ہے جو کبھی ایک دور کا غیر محسوس تعلق تھا، آج وہ حقیقی روزمرہ کی زندگی میں محسوس ہوتا ہے۔


