بیجنگ (شِنہوا) چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فریم ورک کے تحت روس کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے اور اہم امور پر بروقت رابطہ برقرار رکھنے کو تیار ہے جبکہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں کشیدگی کم کرنے، علاقائی امن و استحکام کے تحفظ اور عالمی مشترکہ سلامتی کو برقرار رکھنے کے لئے مشترکہ کوششیں کرنے کا خواہاں ہے۔
چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین اور روس کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے طور پر اصولی معاملات پر انصاف اور دیانتداری کو برقرار رکھنا چاہیے، معروضی اور متوازن موقف اپنانا چاہیے اور عالمی برادری سے مزید سمجھ بوجھ اور حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
وانگ نے اس بات پر زور دیا کہ چین ہمیشہ سے بین الاقوامی اور علاقائی حساس مسائل کے حل کے لئے مذاکرات اور مکالمے کی حمایت کرتا آیا ہے۔ وانگ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال بدستور خراب ہو رہی ہے، کشیدگی میں اضافہ جاری ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے تحفظ کا بنیادی حل فوری جنگ بندی اور جنگ کے خاتمے میں مضمر ہے۔
لاروف نے اپنی گفتگو میں کہا کہ روس مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش رکھتا ہے۔
جاری تنازع اور آبنائے ہرمز کے مسئلے کے حوالے سے لاروف نے کہا کہ روس کا موقف ہے کہ فوجی کارروائیاں فوری طور پر بند ہونی چاہئیں اور مسئلے کی بنیادی وجوہات کے حل کے لئے سیاسی اور سفارتی راستے کو دوبارہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اس ضمن میں تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے۔


