غزہ(شِنہوا)حماس کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ غزہ میں فلسطینی گروہوں نے ایک ممکنہ بین الاقوامی فورس کے قیام کے لئے ابتدائی منظوری دے دی ہے، بشرطیکہ اس کا دائرہ کار صرف "جنگ بندی کی نگرانی اور دونوں فریقوں کو الگ کرنے کے لئے سرحدوں پر موجودگی برقرار رکھنے تک محدود” ہو۔
حماس کے سیاسی بیورو کے رکن حسام بدران نے شِنہوا کو بتایا کہ اس فورس کا کردار محدود، واضح اور باہمی اتفاق کے مطابق ہونا چاہیے اور یہ فلسطین کے قومی فیصلوں کو متاثر نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر ممالک جنہوں نے اس خیال پر بات کی ہے انہوں نے فورس کی تعیناتی سے پہلے فلسطینی رضامندی کی ضرورت پر زور دیاہے۔
بدران اس بین الاقوامی استحکام فورس کا حوالہ دے رہے تھے، جو ایک تجویز کردہ کثیر القومی فورس ہے، جسے نومبر میں ایک وسیع تر امن منصوبے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت منظور کیا گیا۔
بدران نے زور دیا کہ موجودہ معاہدے کا نفاذ فلسطینی مفادات کے خلاف نہیں ہونا چاہیے اور مزاحمتی تحریک کو ہتھیار سے محروم کرنے کی کسی بھی بات چیت کو مسترد کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی زیر تسلط ہیں اور یہ قدرتی امر ہے کہ وہ تمام دستیاب وسائل سے مزاحمت کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینیوں کی اولین ترجیح غزہ کی تعمیرنو ہے تاکہ ہمارے لوگ ایسی زندگی گزار سکیں جو ان کی قربانیوں کے قابل ہو۔
جہاں تک جنگ بندی کے معاہدے کے دوسرے مرحلے کا تعلق ہے، بدران نے کہا کہ اس میں اسرائیلی قبضے کا واضح انخلا، سیاسی مواقع کا آغاز اور فلسطینی ریاست کے قیام پر سنجیدہ مذاکرات شامل ہونے چاہئیں۔


