سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے ایم ڈی کیٹ کیخلاف طلباء کی درخواستوں پر پی ایم ڈی سی و دیگر فریقین سے 22دسمبر تک جواب طلب کرلیا۔
جمعہ کو سندھ ہائی کورٹ میں جسٹس عدنان اقبال چودھری کی سربراہی میں 2 رکنی آئینی بینچ نے ایم ڈی کیٹ کیخلاف طلباء کی درخواستوں پر سماعت کی۔
درخواستوں میں پی ایم ڈی سی، وفاقی وزرات قومی صحت، یونیورسٹیز اینڈ بورز اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نواز ڈاہری ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ 2024ء کے طلباء کو بغیر کسی فارمولے کے میرٹ پر پہلا نمبر دے دیا گیا ہے، ان طلباء کو 2025ء کے طلباء کیساتھ سیٹ الاٹ کی گئی ہے، 400 سے زائد طالبعلموں کو میرٹ سے ہٹ کر سیٹوں کی الاٹمنٹ سے درخواست گزار طلبہ کا حق مارا جارہا ہے، استدعاء ہے کہ پی ایم ڈی سی کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد پی ایم ڈی سی اور دیگر فریقین سے 22 دسمبر تک جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔


