اسلام آباد(شِنہوا)پاکستان میں چینی سفارتخانے میں وسط خزاں تہوار کی تقریب میں دل کے پیدائشی امراض سے صحت یاب ہونے والے پاکستانی بچوں اور ان کے والدین کو مدعو کیا گیا۔ پاکستان کی خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے بھی اس تقریب میں شرکت کی۔
جنوری میں چین کے فو وائی ہسپتال کے پروفیسر پان شیانگ بن کی قیادت میں طبی ماہرین کی ایک ٹیم نے پنجاب کے شہر راولپنڈی میں آٹھ بچوں کے دل کے پیدائشی مرض کا مفت آپریشن کیا۔ اس وقت تمام بچے سرجری کے بعد بہتر طور پر صحت یاب ہو رہے ہیں۔
تقریب میں شریک آٹھ سالہ پاکستانی بچی افرح عامر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اب میں دوڑ سکتی ہوں، چھلانگ لگا سکتی ہوں اور اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل سکتی ہوں۔ میں چینی ڈاکٹروں کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔
پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ دل کے پیدائشی امراض کے علاج کے لئے پاکستان میں امداد فراہم کرنا نہ صرف "انسان اور زندگی کو مقدم رکھنے” کے تصور کی بھرپور عکاسی ہے بلکہ چین اور پاکستان کے درمیان باہمی تعاون اور مشترکہ مستقبل کے حامل معاشرے کی تعبیر بھی ہے۔
آصفہ بھٹو زرداری نے اپنی تقریر میں چینی طبی ٹیم کی اعلیٰ طبی مہارت اور بے لوث خدمات پر شکریہ ادا کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان اور چین صحت، خواتین کی فلاح و بہبود، تعلیم اور ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیں گے۔
اپنے ویڈیو پیغام میں پروفیسر پان نے کہا کہ بطور معالج انہیں بہت خوشی ہے کہ جن بچوں کا انہوں نے علاج کیا وہ اب صحت مند ہو رہے ہیں اور ان کے چہروں پر روشن مسکراہٹیں واپس آ گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں چینی طبی ٹیم پاکستانی ڈاکٹروں کو تربیت دے گی، جدید طبی ٹیکنالوجیز کو فروغ دے گی اور دونوں ممالک کے درمیان طبی تعاون کے مزید ثمرات حاصل کئے جائیں گے۔
تقریب کے دوران بچوں اور ان کے والدین نے کہا کہ چینی طبی ماہرین کی جانب سے چلایا جانے والا یہ علاج معالجے کا منصوبہ ان کے خاندانوں کے لئے امید کی کرن ثابت ہوا ہے اور یہ چین اور پاکستان کے عوام کے درمیان رابطے کی عملی مثال ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چینی طبی ٹیکنالوجی دل کے پیدائشی مرض میں مبتلا مزید مریضوں کو فائدہ پہنچائے گی اور پاکستان اور چین کے درمیان آہنی دوستی کو مزید مضبوط کرے گی۔


