کونمنگ (شِنہوا) پاکستان کے شمال مغربی شہر چارسدہ سے تعلق رکھنے والے عبداللہ ظفر کو آج بھی اپنا بچپن یاد ہے، جب وہ رات کے وقت اپنے گھر کے باہر کھڑے ہو کر آسمان کی طرف دیکھا کرتے تھے۔
ان کے سر کے اوپر چمکتے ننھے ستارے ان کے ذہن میں ایک سادہ مگر دیرپا سوال پیدا کرتے تھے کہ آسمان کے اُس پار کیا ہو رہا ہے؟
برسوں بعد بچپن کا یہی تجسس انہیں ہزاروں کلومیٹر دور چین لے آیا۔ 2015 سے عبداللہ ظفر چین میں پلازما طبیعیات پر تحقیق کر رہے ہیں۔ صوبہ آنہوئی کے شہر ہیفے میں یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی آف چائنہ سے لیبارٹری پلازما طبیعیات میں پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد وہ 2021 میں چینی اکیڈمی آف سائنسز کی یون نان آبزرویٹریز سے وابستہ ہوئے، جہاں انہوں نے سورج سے متعلق طبیعیات میں تحقیق کا آغاز کیا۔ ان کی تحقیق کا مرکز زمین کے قریب ترین ستارے یعنی سورج کے پراسرار مظاہر ہیں۔

چین کے جنوب مغربی صوبے یون نان کے شہر کونمنگ میں چینی اکیڈمی آف سائنسز کی یون نان آبزرویٹریز کی مشاہداتی سہولیات کا فضائی منظر۔(شِنہوا)
چینی اکیڈمی آف سائنسز کی یون نان آبزرویٹریز چین کے ممتاز فلکیاتی تحقیقی اداروں میں شمار ہوتی ہے، جس نے ستاروں کے ارتقا، شمسی طبیعیات اور فلکیاتی مشاہداتی ٹیکنالوجیز جیسے شعبوں میں عالمی سطح پر تسلیم شدہ تحقیقی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
عبداللہ ظفر کہتے ہیں کہ "بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ فلکیات صرف ستاروں کو دیکھنے کا نام ہے، لیکن سورج اس سے کہیں زیادہ اہم اور پیچیدہ ہے۔”
ان کے مطابق سورج وہ پرسکون زرد گولا نہیں ہے جیسا اکثر لوگ تصور کرتے ہیں، بلکہ سورج مسلسل متحرک رہتا ہے اور اس کا مقناطیسی نظام ہر لمحہ تبدیل ہوتا رہتا ہے اور بعض اوقات بے حد طاقتور انداز میں توانائی خارج کرتا ہے، جو مصنوعی سیاروں، مواصلاتی نظام اور حتیٰ کہ زمین کے خلائی ماحول کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ "سادہ الفاظ میں، میں یہ جاننے کی کوشش کرتا ہوں کہ سورج بعض اوقات اچانک اتنی تیزی اور شدت کے ساتھ توانائی کیوں خارج کرتا ہے۔ یہ کچھ ایسا ہے جیسے ہم اپنے قریب ترین ستارے کے مزاج میں آنے والی اچانک تبدیلیوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہوں۔”

پاکستانی محقق عبداللہ ظفر چین کے جنوب مغربی صوبے یون نان کے شہر کونمنگ میں چینی اکیڈمی آف سائنسز کی یون نان آبزرویٹریز میں تحقیقی کام میں مصروف ہیں۔(شِنہوا)
عبداللہ ظفر کی تحقیق کے اہم موضوعات میں مقناطیسی ری کنیکشن شامل ہے، جو ایک ایسا عمل ہے جسے سورج پر رونما ہونے والے کئی طاقتور مظاہر کا بنیادی سبب سمجھا جاتا ہے۔
اس پیچیدہ تصور کی وضاحت کرتے ہوئے وہ ایک آسان مثال دیتے ہیں کہ "فرض کریں دو ربڑ بینڈ کھینچ کر ایک دوسرے میں لپیٹ دیئے جائیں۔ جب وہ اچانک ٹوٹ کر نئے انداز میں دوبارہ جڑتے ہیں تو بہت تیزی سے توانائی خارج ہوتی ہے۔ مقناطیسی ری کنیکشن بھی کچھ ایسا ہی عمل ہے، فرق صرف یہ ہے کہ یہاں ہم ربڑ بینڈ کے بجائے خلا میں موجود غیر مرئی مقناطیسی خطوط کا مطالعہ کرتے ہیں۔”
اپنی حالیہ تحقیق میں عبداللہ ظفر اور ان کے ساتھیوں نے عددی سیمولیشنز کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی کہ مقناطیسی ری کنیکشن اچانک انتہائی شدت اختیار کیوں کر لیتا ہے۔ ایک سیمولیشن کے دوران انہوں نے انتہائی تیز رفتار ری کنیکشن کا مشاہدہ کیا، جسے وہ اپنی زندگی کا ناقابل فراموش لمحہ قرار دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "یہ پہلا موقع تھا جب ہم نے اپنی سیمولیشن میں اتنی تیز اور دھماکہ خیز نوعیت کا ری کنیکشن دیکھا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے ہم قدرت کے پوشیدہ رازوں میں سے ایک راز سے پردہ اٹھا رہے ہوں۔”
عبداللہ ظفر کے لئے یون نان صرف سائنسی تحقیق کا مرکز نہیں بلکہ ان کی زندگی کا ایک اہم حصہ بھی بن چکا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ "کونمنگ کا موسم حیرت انگیز ہے۔ یہ میری زندگی کا بہترین موسم ہے۔”یون نان کے سطح مرتفع پر چمکتی تیز دھوپ نے بھی ان پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔
وہ ہنستے ہوئے کہتے ہیں کہ "میں اکثر مذاق کرتا ہوں کہ اب میرے دونوں بازو اچھی خاصی دھوپ کھا چکے ہیں۔” تاہم یہ صرف مذاق نہیں، کیونکہ سطح مرتفع کی صاف فضا اور تیز دھوپ سورج کے مشاہدے کے لئے نہایت موزوں حالات فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ "ایسی جگہ سورج کا مطالعہ کرنا، جہاں روزمرہ زندگی میں بھی سورج کی موجودگی اتنی نمایاں محسوس ہوتی ہو، واقعی ایک منفرد تجربہ ہے۔”
پاکستان کے ایک چھوٹے سے شہر سے تعلق رکھنے والے عبداللہ ظفر جو آج چین میں سائنسی تحقیق کر رہے ہیں، خود کو دونوں ممالک کی سائنسی برادریوں کے درمیان ایک پل سمجھتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ "سائنسی تعاون صرف تحقیقی مقالات اور اعداد و شمار تک محدود نہیں ہوتا بلکہ یہ انسانوں، دوستی اور باہمی اعتماد پر بھی قائم ہوتا ہے۔”
وہ امید رکھتے ہیں کہ ان کا سفر مزید نوجوانوں، خصوصاً چھوٹے شہروں سے تعلق رکھنے والوں کے لئے حوصلہ افزائی کا باعث بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ "یہ کبھی نہ سوچیں کہ آپ کا پس منظر آپ کے مستقبل کا تعین کرتا ہے۔ میں چارسدہ سے ہوں اور میرا سفر مجھے چین میں سورج پر تحقیق تک لے آیا۔ اگر آپ میں تجسس، محنت اور صبر ہو تو مواقع ضرور ملتے ہیں۔”


