لاہور (لارڈ میڈیا): کھانوں میں ذائقہ بڑھانے والا مشہور مسالحہ ہینگ سال 2026 میں دنیا کی بدبو دار ترین غذاؤں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔ یہ فہرست عالمی ادارہ ٹیسٹ اٹلس نے جاری کی ہے، جس میں ہینگ کو تیز بو والا کشمش جیسا مسالحہ قرار دیا گیا ہے۔
ہینگ کا استعمال جنوبی ایشیا کے لاکھوں گھروں میں دالوں، سالن، سبزیوں، اچار اور مختلف مسالحہ جات میں کیا جاتا ہے۔ کچی حالت میں اس کی بو بہت تیز ہوتی ہے، لیکن پکانے کے بعد یہ منفرد ذائقہ فراہم کرتا ہے۔
ٹیسٹ اٹلس نے دنیا کی بدبو دار ترین غذاؤں کی فہرست جاری کی ہے، جس میں سویڈن کی خمیر شدہ مچھلی سرسٹرومنگ، آئس لینڈ کی ہاکارل، اور گرین لینڈ کی کیویاک بھی شامل ہیں۔
فہرست میں دیگر تیز بو والے پنیر، ڈوریان پھل، چین کا سینچری ایگ، اور جاپان کی ناٹو شامل ہیں۔ ادارے کے مطابق، یہ غذائیں صدیوں پرانی روایات اور بقا کی کہانیوں کی عکاس ہیں۔
ہینگ فیروولا نامی پودے کی جڑ سے حاصل ہونے والی خشک گوند ہے، جو خاص طور پر ایسے کھانوں میں استعمال ہوتی ہے جہاں پیاز اور لہسن شامل نہیں کیے جاتے۔


