ہومتازہ ترینروایتی چینی ثقافت موسمِ گرما میں منفرد سیاحتی تجربات کے بڑھتے رجحان...

روایتی چینی ثقافت موسمِ گرما میں منفرد سیاحتی تجربات کے بڑھتے رجحان کو فروغ دے رہی ہے

چین میں ’’گوفنگ‘‘ (چینی طرز) کے منفرد سفری تجربات نے موسم گرما میں ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو بڑی تعداد میں اپنی جانب متوجہ کیا ہے۔

سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران چین آنے والے غیر ملکیوں کی تعداد 2 کروڑ 29 لاکھ سے تجاوز کر گئی جو 20.4 فیصد کا سالانہ اضافہ ہے

چین کے جنوب مغربی صوبہ یوننان کے شہر لی جیانگ میں واقع قدیم قصبے بائی شا کے دورے کے دوران آسٹریلوی سیاح رُتھ چارلس نے ناشی کڑھائی آزما کر دیکھی۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): رُتھ چارلس، آسٹریلوی سیاح

’’مجھے سلائی اور کڑھائی میں بہت دلچسپی ہے۔ گھر پر بھی میں کافی سلائی کا کام کرتی ہوں۔ اس لئے میں یہاں ہاتھ کے ہنر آزمانے، ماہرین سے ملنے اور ناشی ثقافت کے بارے میں جاننے کے لئے بہت پُرجوش تھی۔ یہ ایک شاندار تجربہ ہے۔ بہت اچھا۔ یہاں کے تربیت کار بہت اچھے ہیں، استاد بہترین ہیں اور ماحول بھی بہت خوبصورت ہے۔‘‘

13 ممالک سے آئے ہوئے 40 سے زائد بیرونِ ملک مقیم چینی طلبہ نے چین کے جنوب مغربی صوبہ گوئی ژو کی رونگ جیانگ کاؤنٹی میں 10 روزہ مطالعاتی دورے میں حصہ لیا۔

چونکہ یہ کاؤنٹی مقبول ‘ولیج سپر لیگ’ کے آغاز کے حوالے سے مشہور ہے اسی لئے اس دورے میں کھیلوں کے ساتھ ثقافتی تجربات کو بھی شامل کیا گیا۔

طلبہ نے دوستانہ فٹ بال میچز کھیلے اور قدیم ڈونگ دیہات کا دورہ کیا۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): ہُو مینگ چھن، چینی نژاد ڈچ طالبہ

’’رونگ جیانگ مطالعاتی دوروں کے لئے ایک شاندار مقام ہے۔ یہاں روایتی چینی ثقافت کو نمایاں نسلی رنگ و خصوصیات کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔‘‘

ثقافتی کشش رکھنے والے مقامات کے ساتھ ساتھ منفرد تجربات بھی مقامی کھپت کو بڑھا رہے ہیں۔

چین کے شمال مغربی صوبہ شانشی کے شہر شی آن میں تانگ طرز کے ثقافتی بلاک میں مختلف سرگرمیاں سیاحوں کو یہاں زیادہ وقت گزارنے اور زیادہ خریداری کے لئے راغب کر رہی ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): ژانگ جیا شِنگ، جنرل منیجر، ’دی لانگسٹ ڈے اِن چانگ آن‘ تھیم بلاک، شی آن

’’ہمارے ثقافتی بلاک کی آمدنی میں کھانے پینے، تخلیقی ثقافتی مصنوعات اور ملبوسات کرائے پر حاصل کرنے سمیت ثانوی اخراجات کا تقریباً 35 فیصد حصہ ہے۔ مختلف کاروباری سرگرمیوں کی بدولت سیاحوں کے اوسط قیام کا دورانیہ بڑھ کر 4 سے 5 گھنٹے ہو گیا ہے جبکہ صارفین کے فی کس اخراجات میں تقریباً 200 یوآن (تقریباً 29 اعشاریہ 5 امریکی ڈالر) کا اضافہ ہوا ہے۔‘‘

موسمِ گرما میں سیاحت کا یہ بڑھتا ہوا رجحان سیاحوں کی بدلتی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ وہ اب صرف سیر و سیاحت کے بجائے روایتی چینی ثقافت کا براہِ راست تجربہ حاصل کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

بیجنگ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں