لاہور (لارڈ میڈیا): لاہور ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین نیازی کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے مقدمے میں گرفتار کرنے سے روک دیا۔ عدالت نے ایک ہفتے کے لیے حفاظتی ضمانت منظور کر لی اور نورین نیازی کو متعلقہ عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
جسٹس سردار اکبر ڈوگر نے نورین نیازی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کے مطابق این سی سی آئی اے نے پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے اور عبوری ضمانت کے لیے متعلقہ عدالت پیش ہونے پر گرفتاری کا خدشہ ہے۔
مقدمے کے پس منظر میں بتایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن نورین نیازی کے خلاف پیکا ایکٹ اور تعزیرات پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ مقدمہ اسلام آباد میں درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق نورین نیازی نے ایک انٹرویو میں ریاستی اداروں بشمول مسلح افواج پر جھوٹے الزامات عائد کیے اور افواج پاکستان کی کامیابیوں کو جھٹلانے کی کوشش کی۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے وضاحت کی کہ نورین نیازی کا بیان پارٹی پالیسی نہیں بلکہ ان کے ذاتی خیالات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ انٹرویو تقریباً تین ماہ پرانا ہے اور متنازع بیانات کو مین اسٹریم میڈیا پر نشر نہیں ہونا چاہیے۔


