اسلام آباد (لارڈ میڈیا): پاکستان نے جرمنی کے نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم کو مسترد کر دیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بیان میں کہا کہ فلم میں پاکستان کے نیوکلیئر اثاثوں کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلائی گئی ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ بین الاقوامی اداروں کو ذمہ دارانہ صحافت کرنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم جدید اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ہے۔
یہ مسئلہ اس وقت سامنے آیا جب سابق امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے فلم کی حمایت کی۔ انہوں نے فلم میں پاکستان کے سیاسی اور معاشی حالات کو نیوکلیئر سیکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دیا۔
فلم 25 جولائی کو یوٹیوب پر اپ لوڈ کی گئی تھی، جس پر پاکستانی علمی اور سیاسی حلقوں نے ردعمل دیا۔ ڈاکٹر رابیہ اختر نے کہا کہ فلم میں پاکستان کے حالات کو من پسند بیانیے میں ڈھالنے کی کوشش کی گئی ہے۔
سینیٹر مشاہد حسین سید نے فلم کو بے ایمانہ کوشش قرار دیا۔ سید طلعت حسین اور دیگر صحافیوں نے بھی فلم پر تنقید کی۔
صحافی فخر درانی نے انکشاف کیا کہ فلم اصل میں ونسنٹ پروڈکشنز کی تیار کردہ تھی، جو بعد میں ڈی ڈبلیو پر جاری کی گئی۔


