مسقط (لارڈ میڈیا) عمان نے ایران کو آبنائے ہرمز کے انتظام کا منصوبہ پیش کیا ہے جسے خلیجی ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ منصوبے میں تجویز دی گئی ہے کہ آبنائے کے استعمال پر رضاکارانہ فیس وصول کی جائے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق عمانی منصوبے کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارت کی رکاوٹوں کو کم کرتے ہوئے خطے میں استحکام پیدا کرنا ہے۔ ایرانی ذرائع نے بتایا ہے کہ تہران نے ابھی تک ان تجاویز کا باضابطہ جواب نہیں دیا۔
یہ تجاویز ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارت میں آنے والی رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے بنیاد فراہم کر سکتی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بمباری مہم روکنے کا اعلان کیا تھا لیکن مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں دوبارہ کارروائی کا انتباہ دیا۔
ایران نے امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت سخت کر دی تھی، جس سے عالمی تجارت متاثر ہوئی۔ عمانی منصوبے کے تحت ایران کو مکمل اختیار حاصل نہیں ہوگا اور جہازوں سے وصول کی جانے والی فیس لازمی نہیں ہوگی۔
عمانی منصوبے کا ایشیا کی آبنائے ملاکا کے انتظامی ماڈل سے موازنہ کیا جا رہا ہے جہاں انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور رضاکارانہ تعاون حاصل کرتے ہیں۔ ایک مغربی سفارت کار نے اس کو پروازوں کے رضاکارانہ کاربن ٹیکس سے تشبیہ دی ہے۔


