نیویارک (لارڈ میڈیا): فیفا ورلڈکپ 2026، جس کی میزبانی امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کر رہے ہیں، ٹکٹ کی مہنگائی اور ویزہ مسائل کی وجہ سے تنازع کا شکار ہوگیا ہے۔ رواں سال ٹکٹ کی قیمتیں عام شائقین کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہیں اور کئی ملکوں کے شائقین ویزہ مسائل کی وجہ سے اپنی ٹیموں کو سپورٹ نہیں کر سکتے۔
فیفا نے پہلی بار ڈائنامک پرائسنگ ماڈل اپنایا ہے، جس کے تحت ٹکٹ کی قیمت طلب کے مطابق بڑھتی رہتی ہے۔ یہ ماڈل امریکی کارپوریٹ کلچر سے متاثر ہے اور اسے شائقین نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
یورپ کی فٹ بال سپورٹرز تنظیم نے فیفا کی ٹکٹ پالیسی کو لوٹ مار قرار دیتے ہوئے یورپی یونین کمیشن میں شکایت درج کرائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فیفا نے عام شائقین کے لیے وعدہ کردہ سستی ٹکٹیں فراہم نہیں کیں۔
امریکا میں سخت امیگریشن قوانین اور ویزہ پابندیوں کی وجہ سے کئی شائقین کے لیے اپنی ٹیم کو سپورٹ کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ورلڈکپ کے دوران 15 ممالک کے شہریوں کے ویزا پروسیسنگ کو معطل کر دیا ہے۔
ٹکٹوں کی مہنگی قیمتوں اور محدود دستیابی کی وجہ سے شائقین فیفا کو ‘امیروں کا بورڈ’ کہہ رہے ہیں۔ فیفا کے مطابق 50 لاکھ سے زائد ٹکٹیں فروخت ہو چکی ہیں، لیکن بڑے پیمانے پر ٹکٹوں کے دوبارہ فروخت ہونے کی وجہ سے شائقین پریشان ہیں۔


