اسلام آباد (لارڈ میڈیا): وفاقی بجٹ میں حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں کو دی گئی ٹیکس مراعات اور رعایتی سیلز ٹیکس شرحوں پر نظرثانی کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں رعایتی جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) ختم کیا جا سکتا ہے۔ حکومت ٹیکس نیٹ میں توسیع اور محصولات میں اضافے کے لئے نئی مالیاتی اصلاحات متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے۔
آٹھویں شیڈول کے تحت حاصل مختلف ٹیکس مراعات کو مرحلہ وار ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ درآمدی کمپیوٹرز اور لیپ ٹاپس پر سیلز ٹیکس میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کو حاصل ٹیکس مراعات کے بارے میں بھی فیصلہ بجٹ میں متوقع ہے۔
زرعی شعبے میں ٹریکٹرز اور ڈی اے پی کھاد پر دی گئی ٹیکس رعایتوں کو کم یا مکمل طور پر ختم کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ پولٹری اور مویشیوں کی خوراک پر سیلز ٹیکس کی شرح بڑھانے کی سفارش کی گئی ہے۔
ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال پر ٹیکس پالیسی میں تبدیلی کا امکان ہے جبکہ سولر فوٹو وولٹائیک سیلز کو حاصل موجودہ ٹیکس سہولت واپس لینے پر غور ہو رہا ہے۔ اسٹیشنری اور بعض بنیادی اشیائے خور و نوش پر دی گئی ٹیکس رعایتیں کم یا ختم کیے جانے کا بھی امکان ہے۔
آئی ایم ایف نے ٹیکس رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق مجوزہ اقدامات کو بجٹ کا حصہ بنایا گیا تو متعدد مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔


