ہومانٹرنیشنلچینی زرعی اساتذہ ایتھوپیا کے نوجوانوں کو عملی مہارتوں کے ذریعے بااختیار...

چینی زرعی اساتذہ ایتھوپیا کے نوجوانوں کو عملی مہارتوں کے ذریعے بااختیار بنانے کے لئے کوشاں

ادیس ابابا (شِنہوا) ایتھوپیا کے ہولیٹا پولی ٹیکنک کالج کے ایک روشن کلاس روم میں حیواناتی سائنس کے طلبہ ایک میز کے گرد جمع تھے جہاں چینی انسٹرکٹر ما یو جئی جراحی کے ٹانکے لگانے کا عملی مظاہرہ کر رہی تھیں۔

یہ عملی مشق محض تھیوری پر مبنی اسباق کے بجائے عملی مہارت کی تربیت کی طرف منتقلی کی عکاس ہے اور طلبہ اس تبدیلی کا سہرا اپنے چینی اساتذہ کے سر باندھتے ہیں۔

انہی طلبہ میں 22 سالہ لیمی ابیرا بھی شامل ہے، جنہوں نے اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ مل کر ٹریننگ پیڈز پر ٹانکے لگانے کی باری باری مشق کی۔ ایتھوپیا کے خطے اورومیا کے قصبے ہولیٹا میں واقع اس کالج میں اپنے 2 سالہ قیام کے بیشتر حصے میں ابیرا اور ان کے ساتھی طلبہ ایک ایسے نصاب پر عمل پیرا تھے جو زیادہ تر نظریاتی تعلیم تک محدود تھا۔

انہوں نے بتایا کہ یہاں اپنے ابتدائی سالوں کے برعکس اب ہم عملی مظاہروں میں حصہ لے رہے ہیں، جہاں ہمارے چینی انسٹرکٹرز کلاس روم کے تصورات کو جانوروں کی صحت سے متعلق عملی طریقوں کے ساتھ جوڑ رہے ہیں۔

ایتھوپیا کے خطے اورومیا کے قصبے ہولیٹا میں واقع پولی ٹیکنک کالج سے طلبہ باہر آ رہے ہیں۔(شِنہوا)

چینی اساتذہ کی جانب سے کروائے جانے والے متواتر عملی مظاہروں، جو کہ زیادہ تر چین سے لائے گئے سازوسامان کی مدد سے کئے جاتے ہیں، پر روشنی ڈالتے ہوئے ابیرا نے کہا کہ یہ سیشنز طلبہ کو جانوروں کی صحت سے متعلق ان موضوعات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے رہے ہیں جو کبھی صرف کتابوں کی حد تک مبہم اور نظریاتی ہوا کرتے تھے۔

طب حیوانات کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ما یو جئی ان 20 چینی اساتذہ میں سے ایک ہیں جو اس وقت چین کے تعاون سے شروع کئے گئے ایک اقدام کے تحت ایتھوپیا کے 6 ووکیشنل کالجوں میں پڑھا رہے ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد ایتھوپیا کے نوجوانوں کو زراعت اور گلہ بانی کی عملی مہارتوں کے ذریعے بااختیار بنانا ہے۔

پروفیسر ما نے شِنہوا کو بتایا کہ طلبہ ٹریننگ ماڈلز پر مشق کرنے کے مواقع کو واقعی بہت قیمتی سمجھتے ہیں یہاں تک کہ کچھ طلبہ کلاس ختم ہونے کے بعد بھی لیبارٹری میں اضافی وقت گزارنے کے لئے بخوشی تیار رہتے ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں