ماسکو (شِنہوا) ماسکو کے جنوب مغربی مضافات میں واقع ایک پرسکون چائے خانے میں کانسی کی گھنٹیوں کی مدھم آواز فضا میں گونج رہی تھی۔ روسی چائے کی ماہر ایلینا پازیٹنیک نے نرمی سے گھنٹیوں کا ایک جوڑا بجایا اور خوبصورتی سے چینی چائے کی محفل کے آغاز کا اشارہ دیا۔
ان کے ساتھ 30 سالہ روسی چائے کا ماہر فیودور لیزیف چارکول کے چولہے کو ہوا دے رہے تھے تاکہ آگ آہستہ آہستہ بھڑک اٹھے۔ مہمان لکڑی کی میز کے گرد خاموشی سے بیٹھے چائے کے کپ سے لطف اندوز ہو رہے تھے جبکہ تیار ہوتی چائے کی خوشبو آہستہ آہستہ پورے ماحول میں پھیل رہی تھی۔
آج کے ماسکو میں ایسے مناظر عام ہوتے جا رہے ہیں۔ چینی زبان میں "سو حہ شوآن” نامی اس چائے خانے میں ہفتے میں چائے کی دو بار محفلیں مقامی شائقین کے لئے ایک باقاعدہ روایت بن چکی ہیں۔
یہ چائے خانہ ایک چینی-روسی جوڑے روسی چائے کے ماہر ولادیمیر بیکوف اور ان کی اہلیہ چینی چائے کی ماہر وین یی لی نے قائم کیا ہے۔
بیکوف کے مطابق چائے لوگوں، چائے، پانی، برتنوں اور ماحول کے درمیان ہم آہنگی کا نام ہے۔ بہترین پانی تلاش کرنے کے لئے انہوں نے ماسکو کے اطراف کئی ماہ تک مختلف ذرائع کو آزما کردیکھا اور آخرکار چائے خانے سے ایک گھنٹے سے زیادہ فاصلے پر واقع ایک قدرتی چشمے کو منتخب کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایک ہی چائے کا ذائقہ پانی کے مطابق بالکل مختلف ہو سکتا ہے۔ اچھا پانی چائے کی اصل خوبی کو ظاہر کرتا ہے۔
لیزیف نے کہا کہ اس کی خوشبو اور بعد کا ذائقہ فوراً دل کو چھو گیا۔ میں نے پہلے کبھی ایسا سکون اور راحت محسوس نہیں کی تھی۔

روس کے دارالحکومت ماسکو میں چائے کی نمائش کے دوران ایک مہمان چائے کی خوشبو سونگھ رہی ہے-(شِنہوا)
جو کچھ ابتدا میں صرف غیر رسمی چائے چکھنے سے شروع ہوا تھا، وہ آہستہ آہستہ برسوں کی گہری تعلیم میں بدل گیا اور آخرکار اس شخص کی زندگی کا لازمی حصہ بن گیا۔ تین سال پہلے جب "سو حہ شوآن” چائے خانہ قائم ہوا تو لیزیف نے فوراً اس میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔
پازیٹنیک بھی جلد ہی ان کے ساتھ شامل ہو گئیں۔ دونوں کے لئے یہ چائے خانہ صرف چائے پینے کی جگہ نہیں بلکہ چینی ثقافت کو بانٹنے اور چائے کے ذریعے تعلقات قائم کرنے کا ایک ذریعہ بن چکا ہے۔
پازیٹنیک نے کہا کہ میرے لئے چائے صرف ایک مشروب نہیں ہے، یہ چینی ثقافت تک پہنچنے کا ایک دروازہ اور لوگوں کے درمیان ایک قدرتی پل ہے۔
پہلی بار آنے والی مہمان تاتیانا گونچارینکو کے لئے یہ تجربہ صرف ذائقے سے کہیں زیادہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ چینی چائے کی خوبصورتی یہ ہے کہ ہر کپ ایک نیا جذباتی تجربہ دیتا ہے۔
بیکوف نے کہا کہ ثقافت اکثر غیر واضح محسوس ہوتی ہے لیکن ذائقہ ایک ٹھوس چیز ہے۔ چائے کی خوشبو اور ذائقے کے ذریعے لوگ اس ثقافت کو محسوس کرنا شروع کرتے ہیں جو اس کے پیچھے ہے۔
انہوں نے کہا کہ چائے کی ثقافت کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ لوگ اسے براہ راست محسوس کر سکتے ہیں۔ ایک گھونٹ یا چائے کے برتن کی خوبصورتی بھی چین کو سمجھنے کا آغاز بن سکتی ہے۔
ماسکو کے مضافات سے لے کر شہر کے مرکز تک چینی چائے کی ثقافت مقامی لوگوں میں جڑ پکڑ رہی ہے اور روسی دارالحکومت میں نئے انداز اختیار کر رہی ہے۔


