بیجنگ (شِنہوا) چین نے جمعرات کو اپنی صنعتی بنیاد کی صلاحیتوں کو تیزی سے بہتر بنانے کے لئے ایک پانچ سالہ منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ یہ جدت پر مبنی ایک مضبوط صنعتی ملک بننے کی جانب ایک اور قدم ہے۔
وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر سرکاری محکموں کی جانب سے مشترکہ طور پر جاری کردہ اس منصوبے میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں اہم پیش رفت اور اس کے عملی استعمال کے لئے مربوط کوششوں پر زور دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد چین کی صنعت کی بنیادی کمزوریوں کو منظم انداز میں دور کرنا اور جدت، خود انحصاری اور معیار کو بہتر بناتے ہوئے صنعتی بنیاد کو مجموعی طور پر مضبوط بنانا ہے۔
صنعتی بنیاد سے مراد وہ بنیادی شعبے ہیں جن پر پیداواری صنعت کی مسابقت کا انحصار ہوتا ہے۔ ان میں اہم پرزے، بنیادی خام مال، بنیادی سافٹ ویئر، متعلقہ ہنر مند افرادی قوت، منڈی کے حالات اور پالیسی ماحول شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق چین نے گزشتہ کئی دہائیوں میں دنیا کا سب سے بڑا اور جامع صنعتی نظام قائم کیا ہے تاہم صنعت کی بنیادی صلاحیتیں اب بھی ایک کمزور کڑی ہیں۔
چینی اکیڈمی آف انجینئرنگ کے ماہر ژو جی نے کہا کہ سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ چین کی صنعتی بنیاد وسیع تو ہے لیکن اتنی مضبوط نہیں ہے۔ انہوں نے صنعتی شعبے میں عدم توازن کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ کم قیمت اور کم معیار کی مصنوعات ضرورت سے زیادہ تیار ہو رہی ہیں جبکہ اعلیٰ معیار کی مصنوعات کی کمی ہے۔
ژو کے مطابق مربوط سرکٹس اور صنعتی سافٹ ویئر جیسے شعبوں میں اب بھی کمزوریاں اور خطرات موجود ہیں۔
چین کی معیشت کو اعلیٰ معیار کی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے اور صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوششوں کے دوران صنعتی بنیاد کو مضبوط اور جدید بنانا مزید اہم ہو گیا ہے۔
جمعرات کو جاری کردہ منصوبے کے مطابق 2030 تک چین کی صنعتی بنیاد کی کمزوریوں میں نمایاں کمی لائی جائے گی اور اس کی مجموعی صلاحیتوں کو عالمی سطح کے جدید معیار تک پہنچایا جائے گا۔ اس طرح جدید پیداواری صنعت پر مبنی ایک جدید صنعتی نظام کی تعمیر کو مضبوط مدد فراہم ہوگی۔
منصوبے کے مطابق 2030 تک صنعتی شعبے میں ایسی مزید کمپنیاں تیار کی جائیں گی جو کسی ایک شعبے میں نمایاں مقام رکھتی ہوں جبکہ خاص مہارت رکھنے والے چھوٹے مگر نمایاں اداروں کو بھی فروغ دیا جائے گا۔


