بیجنگ (شِنہوا) چین نے ادائیگیوں اور مالیاتی خدمات کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لئے اپنے ڈیجیٹل یوآن کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنایا ہے جس کے تحت اخراجات کم کرنے اور اس کرنسی کا استعمال بڑھانے کے مقصد سے مرکزی بینک کے جدید ترین نظام اور سمارٹ معاہدوں کی خدمات کا لائحہ عمل متعارف کرایا گیا ہے۔
پیپلز بینک آف چائنہ (پی بی او سی) کے قائم کردہ ای-سی این وائی آپریشن مینجمنٹ سنٹر نے گزشتہ روز بیجنگ میں فنانشل سٹریٹ فورم 2026 کی سالانہ کانفرنس کے ڈیجیٹل یوآن سے متعلق ایک متوازی اجلاس میں ان دو اہم اقدامات کا اعلان کیا۔
پی بی او سی کے مطابق یہ اپ گریڈ یکم جنوری 2026 کو ڈیجیٹل یوآن کے نئے آپریٹنگ نظام میں منتقلی کے بعد کیا گیا ہے، جس کے تحت اسے نقد رقم جیسی ڈیجیٹل ادائیگی کے ذریعے سے آگے بڑھا کر ڈیجیٹل ڈیپازٹ منی کی شکل دی جا رہی ہے۔
پی بی او سی کے ڈیجیٹل کرنسی ریسرچ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ یہ جدید نظام اجرا کے انتظام، پرچون اور ہول سیل ادائیگیاں، بلاک چین اور سمارٹ کنٹریکٹ سروسز کو ایک جگہ جمع کرتا ہے، اسے سسٹم کے انضمام اور لیکویڈیٹی مینجمنٹ کے اخراجات کم کرنے اور روزمرہ کی ادائیگیوں سے تجارتی مالی اعانت اور مالیاتی تصفیوں تک کی ایپلی کیشنز کو معاونت کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
سمارٹ معاہدوں کی خدمات کے لائحہ عمل کو وسائل اور سہولیات کے اشتراک اور ثانوی استعمال کو فروغ دینے سمیت مالیاتی اداروں کو گاہکوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے لچکدار انداز میں خدمات کو یکجا کرنے کے قابل بنانے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق رواں سال ستمبر کے آخر تک ڈیجیٹل یوآن کے ذریعے مجموعی لین دین کی تعداد 4.3 ارب تک پہنچ گئی ہے جس کی کل مالیت تقریباً 310 کھرب یوآن (تقریباً 46.1 کھرب امریکی ڈالر) ہے۔
ستمبر میں لین دین کی مجموعی تعداد 9 کروڑ 96 لاکھ 70 ہزار اور اس کی مالیت تقریباً 18.7 کھرب یوآن تھی جس میں سالانہ بنیاد پر بالترتیب 12 فیصد اور 123 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پی بی او سی نے 2014 میں ڈیجیٹل کرنسی پر تحقیق شروع کی تھی اور 2019 کے آخر میں تجرباتی منصوبوں کا آغاز کیا تھا، تب سے ڈیجیٹل یوآن کی آزمائش ریٹیل ادائیگیوں، عوامی خدمات اور سرحد پار تصفیوں سمیت مختلف شعبوں میں کی جا چکی ہے۔


