بیجنگ (شِنہوا) چین 15 ویں پانچ سالہ منصوبے (2026 سے 2030) کے دوران قدرتی آفات کی روک تھام، ان سے نمٹنے اور کام کے مقامات پر حفاظت بہتر بنانے کے لئے کوششیں تیز کرے گا تاکہ لوگوں کی جان و مال کا بہتر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
وزارت ہنگامی انتظام کے نائب وزیر سونگ یوآن منگ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ آئندہ پانچ سال کے دوران چین قدرتی آفات کی نگرانی اور پیشگی اطلاع کے نظام کو بہتر بنائے گا۔ اس کے علاوہ نئے خطرات اور مسائل سے نمٹنے کے لئے مقامی سطح پر آفات کی روک تھام اور خطرات کم کرنے کے اقدامات کو مضبوط بنایا جائے گا۔
سونگ نے کہا کہ چین ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے ماہرین کی تربیت اور قدرتی آفات پر بنیادی تحقیق کو بھی فروغ دے گا۔ اس کے ساتھ مصنوعی ذہانت کی مدد سے جدید اور عملی طور پر کارآمد ہنگامی امدادی آلات تیار کئے جائیں گے۔
حالیہ برسوں میں چین نے قدرتی آفات کی روک تھام اور ان سے نمٹنے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافہ کیا ہے۔ مثال کے طور پر رواں سال سیلاب کے موسم میں حفاظتی پشتوں کا معائنہ کرنے اور ان میں پانی کے رساؤ اور اندرونی کٹاؤ کے خطرات کا پتہ لگانے کے لئے ڈرونز، فائبر آپٹک سینسرز اور برقی مقناطیسی آلات استعمال کئے گئے۔
سونگ نے بتایا کہ کام کے مقامات پر حفاظت بہتر بنانے کے لئے چین ایک ضابطہ متعارف کرانے کی کوشش کرے گا۔ اس میں حادثات کے بڑے خطرات کی نشاندہی کے معیار، ایسے خطرات کی جانچ پڑتال کے لئے کاروباری اداروں کی ذمہ داریوں اور متعلقہ نگران اداروں کے احتساب کو واضح کیا جائے گا۔
سونگ کے مطابق اب تک 31 سرکاری محکمے حادثات کے بڑے خطرات کی نشاندہی کے لئے 67 معیارات جاری کر چکے ہیں۔
قومی ادارہ برائے کان کنی کی حفاظت کے نائب سربراہ ژانگ روئی تنگ نے کہا کہ کان کنی کے شعبے میں چین ہر سطح پر حفاظتی ذمہ داریوں کو مزید مضبوط بنائے گا اور حفاظتی انتظامات میں خطرات پیدا ہونے کے بعد کارروائی کرنے کے بجائے پہلے سے ان کی روک تھام کے طریقہ کار کو تیز کرے گا۔
ژانگ نے کہا کہ چین کانوں میں حفاظت بہتر بنانے اور دشوار گزار حالات میں استعمال ہونے والے آلات کو جدید بنانے کے لئے ڈیجیٹل اور ذہین ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھائے گا تاکہ آفات کی روک تھام اور ان پر قابو پانے کے اقدامات کو مزید موثر بنایا جا سکے۔


