واشنگٹن (شِنہوا) نیشنل فیڈریشن آف انڈیپنڈنٹ بزنس (این ایف آئی بی) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق بلند شرح سود اور افراط زر کے باعث چھوٹے امریکی کاروباروں کی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہو رہا ہے۔
تنظیم کا چھوٹے کاروباروں کے اعتماد کا ماہانہ اشاریہ ستمبر میں 0.8 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 97.9 پر آ گیا جو 52 سالہ اوسط 98.0 سے ایک پوائنٹ کے دسویں حصے کے برابر کم ہے۔ اسی دوران تنظیم کا غیر یقینی صورتحال کا اشاریہ ایک پوائنٹ کے اضافے کے ساتھ 90 پر پہنچ گیا جو تاریخی اوسط 68 سے کافی زیادہ ہے۔
این ایف آئی بی کے چیف اکانومسٹ بل ڈنکل برگ نے کہا کہ مین سٹریٹ کے مالکان کاروباری حالات کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہونے کی وجہ سے ستمبر میں چھوٹے کاروباروں کا اعتماد طویل المدتی اوسط کے قریب رہا۔ چھوٹے کاروباری مالکان احتیاط کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں کہ بڑھتے اخراجات، شرح سود اور اہل ملازمین کے حصول میں دشواری ان کے کاروبار کو کس طرح متاثر کر رہے ہیں۔
کچھ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران میں جنگ اور توانائی کے اخراجات دونوں چھوٹے کاروباروں کو متاثر کرنے والے اہم مسائل ہیں۔
سنٹر فار اکنامک اینڈ پالیسی ریسرچ کے شریک بانی اور میکرو اکانومسٹ ڈین بیکر نے شِنہوا کو بتایا کہ توانائی کی بلند قیمتیں اور جنگ اہم مسائل ہیں۔ تعطل برقرار رہنے کی وجہ سے کاروبار جلد کسی بھی وقت جنگ کے خاتمے کے حوالے سے مزید مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں۔
چھوٹے کاروباروں کے لئے تشویش کا ایک بڑا مسئلہ افراط زر تھا جس میں 20 فیصد مالکان نے اسے اپنا واحد اہم ترین مسئلہ قرار دیا جو اگست کے مقابلے میں 4 پوائنٹس زیادہ ہے۔
صرف 7 فیصد مالکان نے بتایا کہ یہ ان کے کاروبار کو وسعت دینے کے لئے اچھا وقت تھا جو اگست کے مقابلے میں 5 پوائنٹس کم ہے۔
چھوٹے کاروباری مالکان کی اپنے کاروبار کی صورتحال کے بارے میں ذاتی رائے ستمبر میں مزید مایوس کن ہو گئی، بڑی تعداد یعنی 35 فیصد مالکان نے اپنے کاروبار کو صرف مناسب قرار دیا جو 7 پوائنٹس کا اضافہ ہے جبکہ 48 فیصد مالکان نے اسے بہتر کہا جو 9 پوائنٹس کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
مجموعی طور پر 8 فیصد مالکان نے اپنے حالیہ قرض پر بلند شرح سود کی ادائیگی کا بتایا جو اگست کے مقابلے میں 4 پوائنٹس زیادہ اور جون 2025 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ ستمبر میں قلیل المدتی قرضوں پر اوسط شرح سود 8.2 فیصد رہی جو اگست کے مقابلے میں 0.7 پوائنٹس زیادہ اور 8.3 فیصد کی تاریخی اوسط کے قریب ہے۔

واشنگٹن ڈی سی میں واقع امریکی کیپیٹل کی عمارت کا بیرونی منظر۔ (شِنہوا)
یہ نتائج امریکی وسط مدتی انتخابات سے ایک ماہ سے بھی کم وقت پہلے سامنے آئے ہیں جن میں برسر اقتدار ریپبلکن پارٹی کی نشستیں ہارنے اور کانگریس کا کنٹرول ڈیموکریٹس کے پاس جانے کی بہت زیادہ توقع کی جا رہی ہے۔
ریپبلکنز پر اثر انداز ہونے والا ایک عنصر یہ بھی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افراط زر میں کمی لانے کے وعدوں پر انتخاب لڑا تھا جس میں سابقہ انتظامیہ کے دور میں شدید اضافہ ہوا تھا۔
ٹرمپ یہ وعدے اب تک پورے نہیں کر سکے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ کوئی بھی سیاست دان خواہ وہ ڈیموکریٹ ہو یا ریپبلکن، افراطِ زر میں کمی کے لئے کچھ خاص نہیں کر سکتا۔ مسلسل بلند ہوتی قیمتیں نیچے لانے کے لئے اکثر فیڈرل ریزرو کو شرح سود اس سطح تک بڑھانا پڑتی ہے جو معاشی سست روی کا سبب بن سکتی ہے اور یہ ایک ایسا قدم ہے جس کی حمایت شاید ہی کوئی سیاست دان کرنا چاہے گا۔
کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر یقینی صورتحال معاشی ترقی کے لئے نقصان دہ ہے۔


