ہوہوت (شِنہوا) کئی دہائیوں تک اندرونی منگولیا کے وسیع میدانوں سے حاصل ہونے والا کوئلہ چین کی بھاری صنعتوں کی توانائی کی ضروریات پوری کرتا رہا۔ اب یہی علاقہ ہوا اور شمسی توانائی سے ماحول دوست ہائیڈروجن تیار کر رہا ہے۔ یہ تبدیلی چین کے ہائیڈروجن شعبے میں ایک اہم پیش رفت ہے، جہاں منصوبے آزمائشی مرحلے سے نکل کر تجارتی پیمانے پر وسعت اختیار کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں شمالی شہر باؤتو کے کان کنی والے علاقوں سے لے کر جنوبی شہر شین زین کے ٹیکنالوجی مراکز تک ہائیڈروجن کے مراکز قائم کئے جا رہے ہیں تاکہ عالمی سطح پر کم کاربن معیشت کی جانب منتقلی میں مدد مل سکے۔
اس کوشش کو2025 کے اواخر سے اہم حکومتی حمایت حاصل ہوئی جب قومی توانائی انتظامیہ نے توانائی کے شعبے میں ہائیڈروجن کے آزمائشی منصوبوں کی پہلی فہرست جاری کی۔ اس میں 9 علاقوں کے 41 منصوبے شامل تھے۔ ان میں چین کے شمالی اندرونی منگولیا خودمختار علاقے کا شہر باؤتو بھی ایک اہم آزمائشی مقام ہے۔
ہوا اور شمسی توانائی کے وافر وسائل اور مضبوط صنعتی بنیاد کی بدولت یہ شہر ماحول دوست ہائیڈروجن کی پیداوار، ذخیرہ کرنے، نقل و حمل اور مختلف شعبوں میں استعمال پر مشتمل ایک مربوط صنعتی سلسلہ قائم کر رہا ہے۔
ہائیڈروجن کے شعبے سے وابستہ تقریباً 20 بڑی کمپنیوں نے باؤتو میں اپنے مراکز قائم کئے ہیں، جس سے اس شعبے میں کئی اہم منصوبوں کی ترقی میں مدد ملی ہے۔ ان میں چین ہوادیان کی ہائیڈروجن ذیلی کمپنی کا 2 لاکھ کلوواٹ صلاحیت کا قابل تجدید توانائی سے ہائیڈروجن پیدا کرنے کا نمائشی منصوبہ بھی شامل ہے، جس کے تحت سالانہ 7800 ٹن ماحول دوست ہائیڈروجن تیار کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ بایان اوبو کو باؤتو کے مرکزی شہر سے ملانے والی 195 کلومیٹر طویل ہائیڈروجن پائپ لائن کی تعمیر بھی جاری ہے۔
ہائیڈروجن کے استعمال کے حوالے سے کان کنی کے علاقوں میں ہائیڈروجن سے چلنے والے بھاری ٹرک پہلے ہی کام کر رہے ہیں جبکہ باؤتو میں ہائیڈروجن سے چلنے والی بسیں بھی شہری روٹس پر چلائی جا رہی ہیں۔
مئی میں ایک مقامی کمپنی کی تیار کردہ ہائیڈروجن سے چلنے والی دو پہیوں کی سواری کو شہر میں عوامی استعمال کے لئے متعارف کرایا گیا۔ اس منصوبے کے تحت ابتدائی طور پر ایک ہزار گاڑیاں عوامی استعمال اور سہولتوں کی فراہمی سے متعلق خدمات کے لئے تیار کی گئیں۔ اس کا مقصد عام شہری ٹرانسپورٹ میں ٹھوس حالت میں ہائیڈروجن ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔
باؤتو کی یہ کوشش توانائی کے نظام میں تبدیلی کے لئے اندرونی منگولیا میں ہائیڈروجن کے استعمال کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے۔ 2025 میں اس علاقے میں ماحول دوست ہائیڈروجن کی پیداوار 12ہزار 694 ٹن تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 3.6 گنا زیادہ ہے۔ اب تک ماحول دوست ہائیڈروجن کے آٹھ منصوبے مکمل ہو چکے ہیں جن سے علاقے کی سالانہ پیداواری صلاحیت 80ہزارٹن ہو گئی ہے ، یہ پیداواری صلاحیت چین میں بلند ترین صلاحیتوں میں شمار ہوتی ہے۔
چین کے دیگر علاقوں میں بھی اس شعبے میں اسی طرح پیش رفت ہو رہی ہے۔ چین کے شمالی صوبے شنشی کے شہر لیولیانگ میں ہائیڈروجن کی پیداوار سے لے کر اس کے آخری استعمال تک کا مکمل صنعتی سلسلہ قائم کیا جا رہا ہے۔ شہر میں ہائیڈروجن کی سالانہ پیداواری صلاحیت ایک لاکھ 35ہزار ٹن تک پہنچ چکی ہے۔ یہاں 14 ہائیڈروجن ری فیولنگ سٹیشن قائم کئے گئے ہیں جن کی مجموعی یومیہ صلاحیت 30 ٹن سے زیادہ ہے جبکہ ہائیڈروجن فیول سیل سے چلنے والی ایک ہزار 315 گاڑیاں بھی استعمال میں ہیں۔
ادھر چین کا جنوبی شہر شین زین اس شعبے میں ملک کے سرکردہ شہروں میں شامل ہے۔ یہاں ہائیڈروجن اور فیول سیل کی صنعت سے وابستہ تقریباً 200 کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ مقامی صنعت میں ہائیڈروجن کی پیداوار، ذخیرہ، نقل و حمل، ری فیولنگ، فیول سیلز، نظام کو یکجا کرنے اور عملی استعمال کے شعبے شامل ہیں۔ اس صنعت کا مجموعی حجم 50 ارب یوآن (تقریباً 7.4 ارب امریکی ڈالر) سے تجاوز کر چکا ہے۔ چین کے شہروں میں فیول سیل گاڑیوں کی سب سے زیادہ منڈی کا حصہ بھی شین زین کے پاس ہے۔
ان علاقائی پیش رفتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین بھر میں ہائیڈروجن کی صنعت تیزی سے وسعت اختیار کر رہی ہے۔ قومی توانائی انتظامیہ کی ایک رپورٹ کے مطابق2025 میں چین کی ہائیڈروجن پیداوار 3کروڑ 90لاکھ ٹن سے تجاوز کر گئی جو اس صنعت کی مسلسل ترقی کا ثبوت ہے۔ اس طرح چین ہائیڈروجن کی پیداوار اور کھپت دونوں شعبوں میں دنیا کے سرکردہ ممالک میں شامل ہے۔


