ہومتازہ ترینچینی شہریوں نے امریکی پائلٹوں کی جان کیسے بچائی، نئی نسل تاریخی...

چینی شہریوں نے امریکی پائلٹوں کی جان کیسے بچائی، نئی نسل تاریخی مقامات پر پہنچ گئی

ڈولیٹل فضائی حملے میں شریک امریکی اہلکاروں کی اولاد کی تنظیم ’’چلڈرن آف دی ڈولیٹل رائیڈرز‘‘ کے چھ نمائندوں نے ہفتے کے روز چین کے مشرقی صوبے جیانگ شی کے شہر شانگراؤ کا دورہ کیا۔

انہوں نے شانگراؤ میں ڈولیٹل فضائی حملے میں شریک امریکی اہلکاروں کو بچانے سے متعلق خصوصی نمائش دیکھی۔ وہ اُن مقامات پر بھی گئے جہاں چینی شہریوں نے امریکی ہوا بازوں کو بچایا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے چین امریکہ عوامی و ثقافتی تبادلوں کی مختلف سرگرمیوں میں حصہ لیا۔

18 اپریل 1942 کو امریکی بمبار طیاروں کے ایک دستے نے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ہارنیٹ سے پرواز کی اور پرل ہاربر پر حملے کے جواب میں جاپان کے شہروں پر فضائی حملے کئے۔

حملے کے بعد طیاروں کا یہ دستہ جب جنوب کی جانب روانہ ہوا تو ایندھن کم پڑنے کے باعث چین کے مشرقی علاقے میں مختلف مقامات پر گر کر تباہ ہو گیا۔

طیاروں کے عملہ نمبر 13 اور نمبر 14 کے ارکان شانگراؤ کے قریب اترے۔

مقامی لوگوں نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر پیراشوٹ کے ذریعے اترنے والے امریکی ہوا بازوں کو بچایا اور انہیں بحفاظت وہاں سے نکلنے میں مدد دی۔

ڈولیٹل فضائی حملے میں شریک امریکی ہوا بازوں اور ان کے لواحقین نے ایسی تنظیمیں قائم رکھی ہیں جو ہر سال یادگاری تقریبات منعقد کرتی ہیں جن کا مقصد امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے والے چینی شہریوں کی عزت افزائی اور ان کا شکریہ ادا کرنا ہے۔

ساؤنڈ بائٹ (انگریزی): تھامس میشیا، ڈولیٹل فضائی حملے میں شریک طیارے کے عملہ نمبر 14 کے نیویگیٹر جیمز ایچ میشیا کابیٹا
’’جب میں اپریل 1942 میں چین میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے یقین ہے کہ دوسرے لوگ بھی ایسا ہی محسوس کرتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر میں اس بات پر شکر گزار ہوں کہ امریکی ہوا باز،یعنی ہمارے آباؤ اجداد صوبہ جیانگ شی میں اترے جہاں مقامی شہریوں، عام کسانوں، سرکاری اہلکاروں اور چینی فوجیوں نے انہیں تلاش کیا اور مدد فراہم کی۔
اسی لئے یہ بات ہمارے لئے خوشی کا باعث ہے کہ ہم نے ڈولیٹل فضائی حملے میں شریک امریکی ہوا بازوں کی اولاد کے طور پر یہاں شانگراؤ کی ثقافتی وسائل کی انجمن کے ساتھ تعلق قائم کر رکھا ہے۔ مجھے امید ہے کہ آئندہ چند روز اور آنے والے برسوں میں بھی ہم مل کر ایسی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔‘‘

شانگراؤ، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں