ہومتازہ ترینچین کا نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں پر برآمدی ٹیکس چھوٹ...

چین کا نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں پر برآمدی ٹیکس چھوٹ میں کمی کا اعلان

بیجنگ (شِنہوا) چین نے اعلان کیا ہے کہ نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں (این ای ویز) پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس(وی اے ٹی) کی برآمدی چھوٹ کی شرح یکم اپریل 2027 سے 13 فیصد سے کم کرکے 9 فیصد کر دی جائے گی۔

وزارت خزانہ اور اسٹیٹ ٹیکسیشن ایڈمنسٹریشن کی جانب سے مشترکہ طور پر جاری کردہ بیان کے مطابق اسی تاریخ سے الیکٹرانک سگریٹ کے آلات اور متعلقہ مصنوعات پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی برآمدی چھوٹ بھی ختم کر دی جائے گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ان مصنوعات پر برآمدی کھپت ٹیکس کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی اور ٹیکس کی واپسی یا چھوٹ کے موجودہ انتظامات برقرار رہیں گے۔

یہ اقدام چین کی جانب سے برآمدی ٹیکس چھوٹ کی پالیسیوں کو مسلسل بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

چین نے یکم اپریل 2026 سے شمسی توانائی کے پینلز سے متعلق مصنوعات پر برآمدی ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی چھوٹ ختم کر دی تھی جبکہ اسی تاریخ سے بیٹریوں پر ٹیکس چھوٹ کی شرح 9فیصد سے کم کرکے 6فیصد کر دی گئی تھی۔ بیٹریوں پر یہ چھوٹ یکم جنوری 2027 سے مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔

چین دنیا میں نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی سب سے بڑی منڈی ہے۔ اس زمرے میں بیٹری سے چلنے والی مکمل الیکٹرک گاڑیاں اور بیرونی ذریعے سے چارج ہونے والی ہائبرڈ گاڑیاں شامل ہیں۔ حالیہ برسوں میں اس شعبے نے تیزی سے ترقی کی ہے اور گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں ترقی کے لئے بیرونی منڈیوں کی جانب زیادہ توجہ دے رہی ہیں۔

یو کائی سیکیورٹیز کے چیف اکانومسٹ لوو ژی ہینگ نے کاروباری خبروں کے نیٹ ورک یی کائی کو بتایا کہ برآمدی ٹیکس چھوٹ میں کمی سے کسی حد تک غیر صحت مند اور شدید مسابقت کم ہو سکتی ہے جبکہ کمپنیوں کو کم قیمت پر مقابلہ کرنے کے بجائے ٹیکنالوجی اور برانڈ کی بنیاد پر مسابقت کی ترغیب ملے گی۔

لوو نے کہا کہ چین کی نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیاں عالمی منڈی میں خاصی مسابقتی ہیں۔ روایتی توانائی کے ذرائع کی عالمی سطح پر محدود رسد کے تناظر میں ان گاڑیوں نے یورپ اور امریکہ کے صارفین کی ضروریات پوری کی ہیں۔ ٹیکس چھوٹ میں جزوی کمی کے باوجود یہ گاڑیاں اپنی مسابقت برقرار رکھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا اس اقدام سے مجموعی طور پر ٹیکسوں کے بوجھ کو مستحکم رکھنے میں بھی مدد ملے گی اور ملکی طلب کی ترقی کو بہتر انداز میں سہارا دیا جا سکے گا۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے ستمبر کے دوران چین سے مجموعی طور پر 82 لاکھ 5ہزار گاڑیاں برآمد کی گئیں جن میں نئی توانائی سے چلنے والی 40 لاکھ سے زائد گاڑیاں شامل تھیں۔ یہ تعداد گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔

چائنہ ایسوسی ایشن آف آٹوموبائل مینوفیکچررز کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل چھن شی ہوا نے کہا کہ بیرونی ماحول پیچیدہ اور مشکل ہونے کے باوجود برآمدات میں تیزی سے اضافہ جاری ہے جو اس شعبے کی مضبوط صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی دوران ملک میں ترقی کے نئے محرکات بتدریج سامنے آ رہے ہیں اور نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی فروخت میں ان کا حصہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

چھن نے کہا کہ رواں سال کی چوتھی سہ ماہی میں بھی کارساز صنعت کی سرگرمیاں مستحکم رہنے کی توقع ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں