ہومتازہ ترینانسانی حقوق کے عالمی نظام کی بہتری کے لئے چین کا عالمی...

انسانی حقوق کے عالمی نظام کی بہتری کے لئے چین کا عالمی تعاون مضبوط بنانے پر زور

چین نے بدھ کے روز جنیوا میں اقوام متحدہ کے ایک پینل اجلاس کے دوران تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ عالمی تعاون کو دوبارہ فعال کریں اور اقتصادی، سماجی و ثقافتی حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدے کے تحت انسانی حقوق کے عالمی نظام کو بہتر بنانے کی کوششیں تیز کریں۔

یہ نشست اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63 ویں اجلاس کے موقع پر منعقد ہوئی جس میں عدم مساوات سے نمٹنے کے تناظر میں اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق کے فروغ اور تحفظ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سوئٹزرلینڈ میں اقوام متحدہ کے دفتر اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے لئے چین کے مستقل نمائندے جیا گائیڈ نے اجلاس سے کلیدی خطاب کیا۔

جیا گائیڈ نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ عالمی تعاون کی ازسرنو تجدید کریں، اقتصادی، سماجی و ثقافتی حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور انسانی حقوق کے عالمی نظام کو بہتر بنانے کی کوششیں تیز کر دیں۔ انہوں نے ترقی پذیر ممالک کی ضروریات کو زیادہ اہمیت دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کے دفتر کے کردار کی حمایت کرے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ممالک اقتصادی، سماجی و ثقافتی حقوق کے شعبے میں نالج ہب کے ذریعے مزید صلاحیت سازی اور تکنیکی معاونت فراہم کریں۔

ساؤنڈ بائٹ (چینی): جیا گائیڈ، چین کےمستقل نمائندہ برائے اقوام متحدہ دفتر و بین الاقوامی تنظیمیں، سوئٹزرلینڈ
’’عدم مساوات سے نمٹنے کے تناظر میں چین اور دیگر گروپ ارکان کی اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق کے فروغ سے متعلق قرارداد منظور ہونے کے بعد سے دنیا مسلسل سنگین چیلنجز سے گزر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کو درپیش موجودہ مالی بحران کے پس منظر میں وسائل کی تقسیم میں عدم توازن بدستور برقرار ہے جس کے باعث دنیا بھر میں اربوں کی آبادی ان حقوق سے مکمل استفادہ نہیں کر پا رہی۔ اس صورتحال نے ممالک کے اندر اور مختلف ممالک کے درمیان عدم مساوات کو بھی مزید بڑھا دیا ہے۔
ان چیلنجز سے نمٹنے کے لئے تمام فریقوں کی جانب سے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ ہماری تجویز ہے کہ تمام ممالک کثیرالجہتی انسانی حقوق کے ایجنڈے میں اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق کو زیادہ ترجیح دیں اور عالمی تعاون کو ازسرنو فعال کریں۔
ہمیں اقتصادی، سماجی و ثقافتی حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کو نبھانا اور ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہوگا۔ ہمیں انسانی حقوق کے عالمی نظام کو بہتر بنانے کی کوششیں تیز کرنی چاہئیں۔ ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی کو مزید بڑھانا چاہئے اور اقتصادی، سماجی و ثقافتی حقوق کے شعبے میں ان کی ضروریات پر زیادہ توجہ دینی چاہئے۔
ہم اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر سے تعاون کرتے ہیں تاکہ وہ اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق کے تحفظ کے فروغ کے لئے رابطہ کاری کی کوششوں میں بھرپور طریقے سے اپنا کردار ادا کر سکے۔
چین سب کے لئے مساوات کو فروغ دینے، اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق سے مکمل استفادے کو یقینی بنانے، انسانی حقوق کے عالمی نظام کی بہتری اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے شعبے کی صحت مند ترقی کو آگے بڑھانے کے لئے تمام فریقوں کے ساتھ مل کر مسلسل کام کرنے کے لئے مکمل طور پر تیار ہے۔ آپ کا شکریہ۔‘‘

یہ پینل اجلاس انسانی حقوق کونسل کی اس قرارداد کے تحت منعقد کیا گیا جو عدم مساوات سے نمٹنے کے تناظر میں اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق کے فروغ اور تحفظ سے متعلق چین کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔

قرارداد کے تحت انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر کی جانب سے قائم کیا گیا اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق سے متعلق نالج ہب اس شعبے میں تکنیکی معاونت اور صلاحیت سازی کے لئے اقوام متحدہ کا مرکزی پلیٹ فارم بن چکا ہے۔

جنیوا، سوئٹزرلینڈ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں