واشنگٹن (شِنہوا) امریکی سپریم کورٹ نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے دو ماہ سے بھی کم وقت پہلے ٹرمپ انتظامیہ کی بذریعہ ڈاک ووٹنگ کے حوالے سے نئی شرائط کو مسترد کر دیا۔
عدالت نے 2026 کے انتخابات میں اس اصول کے نفاذ کو انتظامی طریقہ کار کے قانون کی خلاف ورزی، صوابدیدی اور من مانا قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات سے پہلے یہ اصول موثر طریقے سے نافذ کرنے کے لئے ریاستی اور مقامی انتخابی عہدیداروں کے پاس وقت کافی نہیں۔
اس فیصلے سے امریکی پوسٹل سروس کو معمول کے مطابق بیلٹ پیپرز پہنچانے کی اجازت مل گئی ہے۔
ٹرمپ نے 31 مارچ کو ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کئے تھے جس میں وفاقی اداروں کو ووٹ دینے کے اہل امریکی شہریوں کی ہر ریاست کی فہرستیں مرتب کرنے اور امریکی پوسٹل سروس کو ایسا نظام قائم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی جس کے تحت ڈاک کے ذریعے بیلٹ پیپرز صرف ان ووٹروں کو پہنچائے جائیں جو متعلقہ ریاست کی فراہم کردہ فہرستوں میں شامل ہوں۔
انتظامی حکم نامہ جاری ہونے کے چند ہی دنوں کے اندر متعدد تنظیموں اور کیلیفورنیا کی قیادت میں ریاستوں کے ایک گروپ نے ڈسٹرکٹ آف میساچوسٹس میں مقدمہ دائر کر دیا جس نے اس حکم نامے کا نفاذ روکنے کے لئے متعدد امتناعی احکامات جاری کئے۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے تازہ ترین فیصلے کے ساتھ وہ حکم امتناع برقرار رکھا گیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت جو تاحال معطل ہے، ریاستوں کے لئے یہ لازمی کیا گیا تھا کہ وہ امریکی پوسٹل سروس کے ذریعے ترسیل کے لئے ووٹروں کے نام اور پتے فراہم کریں اور بیلٹ کے لفافوں پر مخصوص بار کوڈز استعمال کریں۔
نیشنل پبلک ریڈیو کی ایک رپورٹ کے مطابق الاباما، شمالی کیرولائنا اور وسکونسن سمیت دیگر ریاستوں میں بذریعہ ڈاک ووٹنگ پہلے ہی شروع ہو چکی ہے۔ جلد ہی مزید ریاستوں میں بھی بذریعہ ڈاک ووٹنگ شروع ہو جائے گی جن میں ہوائی، اوریگون اور واشنگٹن شامل ہیں جہاں انتخابات بڑے پیمانے پر یا مکمل طور پر ڈاک کے ذریعے ہی کرائے جاتے ہیں۔


