لندن (شِنہوا) برطانوی ماہرین نے چین کی خدمات کی تجارت میں تیز رفتار ترقی کو سراہتے ہوئے چین اور برطانیہ کے درمیان خدمات کی تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے وسیع مواقع کی نشاندہی کی ہے۔
اتوار کو اختتام پذیر ہونے والے خدمات کی تجارت کے بین الاقوامی چینی میلے ( سی آئی ایف ٹی آئی ایس) 2026 میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کثیرالقومی کمپنیوں کی زیادہ تعداد نے شرکت کی، جن میں دنیا کی 500 بڑی فارچیون کمپنیوں کی فہرست میں شامل 473 کمپنیاں یا اپنے شعبوں میں نمایاں کمپنیاں شامل تھیں۔
سٹی آف لندن کارپوریشن (سی ایل سی) نے شِنہوا کو بتایا کہ سی آئی ایف ٹی آئی ایس جیسے اہم عالمی پروگرام برطانیہ میں قائم خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لئے خدمات کی برآمد کے اہم مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
سی ایل سی کے مطابق یہ میلہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ چین کھپت اور خدمات پر مبنی معاشی ترقی، غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے کھلے پن اور خدمات کے شعبے میں مزید اصلاحات و کشادگی کے عزم پر قائم ہے۔
چین کی خدمات کی تجارت نے 2026 کے پہلے 7 ماہ کے دوران مستحکم ترقی برقرار رکھی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں خدمات کی تجارت کا حجم تقریباً 44.5 کھرب یوآن (تقریباً 663.3 ارب امریکی ڈالر) رہا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 8.3 فیصد زیادہ ہے۔
چائنہ یو کے بزنس ڈیویلپمنٹ سنٹر کے چیئرمین جان میک لین نے کہا کہ چین کی خدمات کی تجارت میں توسیع معاشی ترقی کا نیا ذریعہ بن رہی ہے اور چین کی عالمی سطح پر پیش رفت کے نئے مرحلے کی نمائندگی کرتی ہے۔

برانڈ فنانس کے چیئرمین ڈیوڈ ہیگ برطانیہ کے شہر لندن میں چینی کمپنیوں کے عالمی اثر و رسوخ سے متعلق فورم سے خطاب کر رہے ہیں۔(شِنہوا)
برطانوی کنسلٹنسی برانڈ فنانس کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق خدمات کی تجارت سے متعلق دنیا کے 100 قیمتی ترین برانڈز میں چین 21 برانڈز کے ساتھ عالمی سطح پر دوسرے نمبر پر ہے جن کی مجموعی مالیت 876.8ارب ڈالر ہے۔
برانڈ فنانس ایشیا پیسیفک کے منیجنگ ڈائریکٹر ایلکس ہیگ نے کہا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، مواصلاتی نیٹ ورکس اور بڑے مالیاتی اداروں کے درمیان ہم آہنگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چینی خدمات کے برانڈز تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ یہ اس نئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے جس میں "میڈ ان چائنہ” سے "چائنہ سروسز” اور "چائنہ برانڈز” کی جانب پیش رفت ہو رہی ہے۔
میک لین نے کہا کہ چین کی خدمات کی تجارت میں ترقی نئے تجارتی مواقع پیدا کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں خدمات کی تجارت چین اور برطانیہ کے اقتصادی تعلقات کے اگلے مرحلے کے لئے سب سے اہم مواقع میں سے ایک ہے۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ کو مالیاتی اور پیشہ ورانہ خدمات، لائف سائنسز اور تخلیقی صنعتوں جیسے شعبوں میں برتری حاصل ہے جبکہ چین ڈیجیٹلائزیشن، جدید پیداوار اور ٹیکنالوجی کو تیزی سے تجارتی سطح پر لانے جیسے شعبوں میں آگے ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے سے استفادہ کرنے والی اپنی صلاحیتوں کو یکجا کرکے سب سے بڑے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔


