چین کے شہر شیامن میں 26ویں چائنہ انٹرنیشنل فیئر فار انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ (سی آئی ایف آئی ٹی) کا آغاز منگل کے روز ہو گیا۔ نمائش میں 129 ممالک اور خطوں کے وفود کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تنظیموں، کاروباری گروپس اور صنعتی انجمنوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
سی آئی ایف آئی ٹی کے موقع پر یو ایس چائنہ بزنس کونسل کے صدر شان اسٹین کا کہنا تھا کہ چین کی منڈی میں موجود وسیع مواقع کے ساتھ ساتھ اس کی جدت اور تخلیقی صلاحیتیں بھی امریکی سرمایہ کاروں کے لئے نئی کشش کا باعث بن رہی ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ (انگریزی): شان اسٹین، صدر، یو ایس چائنہ بزنس کونسل (یو ایس سی بی سی)
’’پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ امریکی کمپنیاں چین کی منڈی کی وجہ سے یہاں موجود ہیں اور واقعی یہ بات درست ہے کہ چین ایک اہم منڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن اب بڑھتی ہوئی تعداد میں کمپنیوں کی سرمایہ کاری کی وجہ یہ نہیں رہی۔ سرمایہ کاری کو آگے بڑھانے والی اصل وجہ یہ ہے کہ یہاں بہت زیادہ جدت اور تخلیقی صلاحیتیں سامنے آ رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کمپنیاں سرمایہ کاری کر رہی ہیں کیونکہ وہ یہ جاننا چاہتی ہیں کہ وہ سرمایہ کاری کے اس عمل میں کس طرح شامل ہو سکتی ہیں، وہ اس سے کیسے سیکھ سکتی ہیں اور وہ یہاں اپنےشراکت دار کیسے تلاش کر سکتی ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ نہ صرف چین کی منڈی میں زیادہ مؤثر انداز میں کام کریں بلکہ عالمی سطح پر بھی زیادہ مؤثر ثابت ہوں۔
کمپنیاں اب یہاں محض افرادی قوت کی وجہ سے سرمایہ کاری نہیں کر رہیں بلکہ ان کے سرمایہ لگانے کی بڑی وجہ یہاں موجود جدت اور یہاں ہونے والی ترقی ہے۔
اور یہی وجہ ہے کہ بہت سے شعبوں میں اگر آپ چین میں موجود نہیں ہیں اور یہاں ہونے والی سرگرمیوں کا حصہ نہیں بنے ہیں تو بہت جلد آپ باقی لوگوں سے پیچھے رہ جائیں گے۔‘‘
شیامن، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


