ہومتازہ ترینچین میں دریا سے سمندر تک پھنگ لو نہر 16 ستمبر سےبحری...

چین میں دریا سے سمندر تک پھنگ لو نہر 16 ستمبر سےبحری آمدورفت کے لئے کھول دی جائے گی

نان ننگ (شِنہوا) چین کے جنوبی گوانگ شی ژوانگ خودمختار علاقے میں پھنگ لو نہر 16 ستمبر سے باقاعدہ فعال ہو جائے گی۔

نہر کو بحری آمدورفت کے لئے کھولنے کے حوالے سے منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ134.2 کلومیٹر طویل یہ نہر جہاز رانی کے لئے استعمال ہونے والے شی جیانگ دریا کو جنوب میں بے بو خلیج سے ملاتی ہے۔ یہ 1949 کے بعد چین میں قومی سطح پر منصوبہ بندی اور مربوط انداز میں تعمیر کیا جانے والا دریا سے سمندر تک پہلا بڑا نہری منصوبہ ہے۔

یہ نہر زیادہ سے زیادہ 5 ہزار ٹن وزنی بحری جہازوں کی آمدورفت کے لئے بنائی گئی ہے۔ یہ چین کے نئے بین الاقوامی زمینی و بحری تجارتی راستے کے ساتھ پھیلی ہوئی ہے، جو چین کے اندرون ملک علاقوں کو آسیان اور دیگر عالمی منڈیوں سے ملانے والا ایک اہم تزویراتی راستہ ہے۔

علاقائی حکومت کی نائب چیئرپرسن لو شن ننگ نے ستمبر کے اوائل میں منعقدہ ایک اور پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس نہر سے چین کے جنوب مغربی اندرونی علاقوں اور آسیان کے درمیان بحری فاصلہ 560 کلومیٹر کم ہونے اور لاجسٹکس کے اخراجات میں 18 سے 30 فیصد کمی آنے کی توقع ہے۔

لو نے کہا کہ ’’یہ نہر نہ صرف گوانگ شی کو دریا سے سمندر تک رابطے میں درپیش دیرینہ رکاوٹوں کو دور کرے گی بلکہ چین اور آسیان کے درمیان اقتصادی جغرافیے کو بھی نئی شکل دے گی۔‘‘

حالیہ برسوں میں چین اور آسیان کے درمیان تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق 2026 کی پہلی ششماہی میں چین اور آسیان کے درمیان دوطرفہ تجارت 43.4 کھرب یوآن (تقریباً 640 ارب امریکی ڈالر) تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 18.2 فیصد زیادہ ہے۔

نہر کے جنوبی سرے پر واقع اہم مرکز بے بو خلیج بندرگاہ آسیان کے لئے چین کے کھلے پن کا ایک اہم دروازہ بن چکی ہے۔ اس بندرگاہ کے کنٹینر ہینڈلنگ کے حجم میں 2017 کے 22 لاکھ 80 ہزار بیس فٹ مساوی یونٹس (ٹی ای یوز) سے بڑھ کر 2025 میں ایک کروڑ 60 ہزار ٹی ای یوز ہو گیا۔ بندرگاہ نے ایک جامع بحری نیٹ ورک بھی قائم کیا ہے جو آسیان بھر کی بڑی بندرگاہوں کا احاطہ کرتا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں