کیف (شِنہوا) یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ امریکی نمائندوں سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے ساتھ ہونے والی بات چیت انتہائی جامع اور نتیجہ خیز رہی۔
زیلنسکی نے مذاکرات کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ فریقین نے روس یوکرین تنازع پر مذاکرات کی بحالی، یوکرین کے لئے سلامتی اور معاشی ضمانتوں اور سرمائی امدادی پیکج پر تبادلہ خیال کیا۔
زیلنسکی کا کہنا تھا کہ ہم فضائی دفاع اور توانائی دونوں شعبوں میں مدد کے ساتھ ساتھ امریکی مائع قدرتی گیس کی نمایاں مقدار اور اس کے استعمال کے امکانات پر بہت زیادہ انحصار کر رہے ہیں۔
زیلنسکی نے بتایا کہ تیسرے دور کے دوران برطانیہ، فرانس اور جرمنی سمیت دیگر یورپی ممالک کے نمائندے بھی ان کی بات چیت میں شامل ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تینوں فریقوں نے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے کے لئے مستقبل میں دوبارہ ملنے پر اتفاق کیا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تنازع کے خاتمے کے لئے یوکرین، امریکہ اور روس کے درمیان سہ فریقی مذاکرات دوبارہ بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
دوسری جانب وٹکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ دونوں امریکی امن نمائندوں نے ماسکو میں ’’نمایاں پیش رفت‘‘ کی ہے اور امید ہے کہ جلد ہی سہ فریقی مذاکرات کا اعلان کر دیا جائے گا۔
وٹکوف اور کشنر ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کے بعد اتوار کو اپنے پہلے دورے پر کیف پہنچے تھے۔
روس-یوکرین تنازع کے خاتمے کا حل تلاش کرنے کی غرض سے اس سے قبل یوکرین، امریکہ اور روس کے وفود نے 23-24 جنوری اور 4-5 فروری کو ابوظہبی میں مذاکرات کے دو دور منعقد کئے تھے جس کے بعد 17-18 فروری کو جنیوا میں ایک اور دور ہوا۔ تاہم اس کے بعد سہ فریقی مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے اور تاحال معطل ہیں۔


