صنعتی اعداد و شمار کے مطابق اگست میں آسٹریلیا میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جبکہ چینی ساختہ گاڑیوں کی مقبولیت میں بھی مسلسل اضافہ ہوا ہے۔
آسٹریلین فیڈرل چیمبر آف آٹوموٹیو انڈسٹریز (ایف سی اے آئی) نے جمعرات کے روز بتایا کہ اگست کے مہینے میں ملک بھر میں نئی گاڑیوں کی مجموعی فروخت میں بیٹری سے چلنے والی الیکٹرک گاڑیوں (بی ای ویز) کا حصہ 24.9 فیصد رہا جو جون میں قائم ہونےوالے 23.3 فیصد کے سابقہ ریکارڈ سے زیادہ ہے۔
یہ مسلسل چوتھا مہینہ ہے کہ نئی گاڑیوں کی فروخت میں بی ای ویز کا حصہ کم از کم 20 فیصد رہا ہے۔ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے باعث مئی میں پہلی بار یہ شرح 20 فیصد تک پہنچی تھی۔
ایف سی اے آئی کا کہنا ہے کہ اگست میں بی ای ویز کی فروخت اگست 2025 کے مقابلے میں 171 فیصد زیادہ رہی۔
اعداد و شمار کے مطابق اگست کے دوران گاڑیاں تیار کرنے والی سب چینی کمپنیاں بی وائی ڈی، جی ڈبلیو ایم، ایم جی، جی لی اور چیری آسٹریلیا کے 10 مقبول ترین برانڈز میں شامل رہیں۔
بی وائی ڈی نے اگست میں آسٹریلوی صارفین کو 8231 نئی گاڑیاں فراہم کیں جو ٹویوٹا کے بعد تمام گاڑی ساز کمپنیوں میں دوسرے نمبر پر ہے۔ اگست 2025 میں بی وائی ڈی نے 4877 گاڑیاں فروخت کی تھیں۔
جی لی نے اگست میں آسٹریلیا میں 4504 نئی گاڑیاں فروخت کیں جبکہ سال 2025 کے اسی عرصے میں اس کی صرف 401 گاڑیاں فروخت ہوئیں۔ یہ ایک ہزار فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہے۔
ایف سی اے آئی کے چیف ایگزیکٹو ٹونی ویبر نے کہا کہ آسٹریلیا کی آٹو موٹیو مارکیٹ میں نمایاں ڈھانچہ جاتی تبدیلی سے گزر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی ای ویز کی مسلسل بلند فروخت اور صارفین کی بدلتی ہوئی برانڈ ترجیحات ظاہر کرتی ہیں کہ صارفین کی پسند اور مسابقت کس تیزی سے آسٹریلیا کی نئی گاڑیوں کی منڈی کو تبدیل کر رہی ہے۔
سال 2026 کے دوران اگست کے اختتام تک بی وائی ڈی نے آسٹریلیا میں 68423 نئی گاڑیاں فروخت کیں جو سال 2025 کی اسی مدت میں فروخت ہونے والی 32839 گاڑیوں کے مقابلے میں 108 فیصد زیادہ ہیں۔
کینبرا سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


