ہومتازہ ترینچین اور روس کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون عالمی منڈی...

چین اور روس کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون عالمی منڈی کے استحکام میں معاون ہے، چینی نائب وزیرِاعظم

ولادی ووسٹوک (شِنہوا) چین اور روس نے بدلتے ہوئے بین الاقوامی منظرنامے اور بار بار پیدا ہونے والے جغرافیائی سیاسی تنازعات کے درمیان تیل اور گیس کے شعبے میں تعاون کو مسلسل وسعت دے کر عالمی توانائی کی منڈی کے استحکام کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

چین کے نائب وزیراعظم ڈنگ شوئے شیانگ نے روس کے شہر ولادی ووسٹوک میں 8 ویں چین-روس توانائی تجارتی فورم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دوطرفہ توانائی تعاون کی اعلیٰ سطح کی ترقی کو سراہا۔

ڈنگ شوئے شیانگ نے کہا کہ دونوں ممالک کے سربراہان مملکت کی رہنمائی چین-روس جامع توانائی شراکت داری کی ترقی میں سب سے بڑا فائدہ ہے۔ انہوں نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ اس رہنمائی پر عمل جاری رکھیں، سیاسی باہمی اعتماد کو مزید گہرا کریں، تزویراتی رابطے مضبوط بنائیں اور عملی تعاون کو بتدریج وسعت دیں۔

چینی نائب وزیر اعظم نے کہا کہ باہمی فائدہ اور باہمی کامیابی دونوں ممالک کے درمیان توانائی تعاون کی بنیادی قوت ہیں۔ دونوں فریقوں نے تعاون کا ایک ایسا نمونہ تشکیل دیا ہے جو ان کے باہمی مفادات کو مدنظر رکھتا ہے جبکہ توانائی کے وسائل اور تکنیکی جدت کے شعبوں میں تعاون نے دونوں ممالک کی اقتصادی ترقی کو موثر طور پر فروغ دیا اور عوام کی زندگیوں کو بہتر بنایا ہے۔

ڈنگ شوئے شیانگ نے کہا کہ مشترکہ طور پر چیلنجز کا سامنا کرنا چین اور روس کے توانائی تعاون کی ایک نمایاں خصوصیت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کو تعاون کے مختلف طریقہ کار اور پلیٹ فارمز سے بھرپور فائدہ اٹھاتے رہنا چاہیے، خطرات اور چیلنجز سے مناسب انداز میں نمٹنا چاہیے اور توانائی کی صنعتی اور سپلائی چینز کے استحکام اور ہموار ترسیل کو یقینی بنانا چاہیے۔

حکومتی عہدیداران اور تیل و گیس کمپنیوں کے نمائندوں سمیت چین اور روس کے تقریباً 400 افراد نے فورم میں شرکت کی۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں