واشنگٹن (شِنہوا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج ممکنہ طور پر جلد ہی ایران کے ’پک ایکس ماؤنٹین‘ پر حملہ کر سکتی ہے جو ایران کی نطنز جوہری افزودگی کی تنصیب کے قریب واقع ایک مضبوط حفاظتی مقام ہے۔ جبکہ انہوں نے ایران کے ساتھ تنازع کو ’’معمولی معاملہ‘‘ قرار دے کر اس کی شدت کو کم ظاہر کرنے کی کوشش کی۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم بہت جلد پک ایکس پر حملہ کر سکتے ہیں۔‘ ان کا اشارہ اس زیر زمین تنصیب کی جانب تھا جہاں واشنگٹن کے مطابق ایران نے اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا کچھ حصہ منتقل کر دیا ہے۔
دریں اثنا ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تنازع کو غیر اہم ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ نہیں ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’یہ ایک فوجی تنازع ہے، لیکن یہ وقفے وقفے سے جاری ہے‘ حالانکہ وہ متعدد بار اس تنازع کو ’جنگ‘ قرار دے چکے ہیں جبکہ بعض اوقات اس اصطلاح کے استعمال سے گریز بھی کرتے ہیں۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ’میں اسے فوجی تنازع کہوں گا کیونکہ ہمارے لئے یہ معمولی نوعیت کا معاملہ ہے۔ یہ کوئی بڑا معاملہ نہیں ہے۔‘
ٹرمپ نے کہا کہ ’میں کہوں گا کہ یہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ آپ جانتے ہیں، ہم وقفے وقفے سے حملے کرتے ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’اس بات میں بہت حقیقت ہے کہ ہم اس وقت لڑائی نہیں کر رہے۔ کوئی لڑائی نہیں ہو رہی۔‘
سی این این نے رپورٹ کیا کہ اس ہفتے امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز کے اردگرد تقریباً 60 ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں فضائی دفاعی مقامات، ریڈار نظام، بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیتیں اور مواصلاتی تنصیبات شامل ہیں۔


