ہومبیلٹ اینڈ روڈ+سی پیکچینی نائب وزیراعظم کی مشرقی اقتصادی فورم میں شرکت، چین روس علاقائی...

چینی نائب وزیراعظم کی مشرقی اقتصادی فورم میں شرکت، چین روس علاقائی تعاون مزید مضبوط بنانے کی تاکید

ولادی ووستوک (شِنہوا) چینی نائب وزیراعظم ڈنگ شوئے شیانگ نے کہا ہے کہ چین اور روس کو بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور یوریشین اکنامک یونین کی ترقی میں تعاون مزید بڑھانا چاہیے۔ دونوں ممالک کو چین کے شمال مشرقی علاقوں اور روس کے مشرق بعید کی ترقی کی اپنی اپنی حکمت عملیوں کو بھی ایک دوسرے کے ساتھ مزید ہم آہنگ کرنا چاہیے۔

کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کی قائمہ کمیٹی کے رکن ڈنگ شوئے شیانگ نے یہ بات روس کے مشرق بعید کے شہر ولادی ووستوک میں 11ویں مشرقی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

ڈنگ نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران دونوں ممالک کے سربراہان کی تزویراتی رہنمائی میں چین اور روس کے درمیان علاقائی تعاون بالخصوص چین کے شمال مشرقی علاقوں اور روس کے مشرق بعید کے درمیان تعاون نے نمایاں نتائج حاصل کئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چین بدستور روس کے مشرق بعید کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ تعاون کے اہم منصوبوں پر تیزی سے پیش رفت ہو رہی ہے جبکہ دوطرفہ بغیر ویزا پالیسی نے مسافروں کی سرحد پار آمدورفت اور سامان کی تجارت میں اضافہ کیا ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ چین اور روس عوام کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے قریبی تعاون جاری رکھیں، مختلف علاقوں کے درمیان باہمی تعاون مضبوط بنائیں، مقامی خصوصیات کے حامل صنعتی شعبوں کو فروغ دیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ دونوں ممالک کے عوام ترقی اور بحالی کے عمل سے مزید ٹھوس فوائد حاصل کریں۔

انہوں نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ کاروباری اداروں کے مسائل اور خدشات کو بروقت حل کریں، پالیسیوں میں تسلسل اور استحکام برقرار رکھیں اور کاروبار کی ترقی کے لئے سازگار حالات پیدا کریں۔

ڈنگ نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ ثقافت، سیاحت، تعلیم اور نوجوانوں کے شعبوں میں تبادلے اور تعاون کو مزید مضبوط بنائیں اور چین روس تعلیمی سال کے تحت ہونے والی مختلف سرگرمیوں کو کامیاب بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ چین اور روس کو علاقائی امن و استحکام کا تحفظ کرنا چاہیے، اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصولوں، بین الاقوامی انصاف اور منصفانہ عالمی نظام کو مشترکہ طور پر برقرار رکھنا چاہیے اور دوسری عالمی جنگ کی فتح کے نتائج اور جنگ کے بعد قائم ہونے والے عالمی نظام کو چیلنج کرنے کی کسی بھی کوشش کو روکنا چاہیے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں