چین اور کرغزستان کے درمیان بنیادی ڈھانچے، تجارت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سمیت مختلف شعبوں میں تعاون گہرا ہونے سے دونوں ممالک کی شراکت داری نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): شبدان باکتی بیک، کرغز صحافی
’’آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ چین اور کرغزستان کی معیشتیں کس طرح ترقی کر رہی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان نئے منصوبے اور نئے پروگرام شروع کئے گئے ہیں۔ میرے خیال میں یہ بہت اچھی اور ایک نتیجہ خیز پیش رفت ہے۔ جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کرغزستان کا دارالحکومت بشکیک گزشتہ 10 سے 15 برسوں کے دوران ترقی کر رہا ہے۔ ہمیں اپنے چینی ساتھیوں کے ساتھ ان روابط پر بہت فخر ہے کیونکہ ہم بڑے بڑے منصوبے، نئی عمارتیں اور کرغزستان اور چین کے درمیان ریلوے بھی دیکھ رہے ہیں۔ اس نوعیت کے منصوبے ہمارے باہمی رابطوں کو مزید بہتر سطح پر لے جا سکتے ہیں۔‘‘
بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں سے لے کر سرحد پار ای کامرس تک دونوں ممالک کے درمیان تعاون اب نئے شعبوں تک پھیل رہا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): شبدان باکتی بیک، کرغز صحافی
’’میرے خیال میں ای کامرس ہمارے روابط کو بہتر بنانے کی جانب پہلا قدم ہے۔ میرا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت، نئی ٹیکنالوجیز اور اس نوعیت کے دیگر منصوبے ہمارے لئے بہت مفید ثابت ہوں گے۔‘‘
یہ شراکت داری ایسے وقت میں آگے بڑھ رہی ہے جب شنگھائی تعاون تنظیم اپنی 25ویں سالگرہ منا رہی ہے اور تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان تعاون مسلسل نئی شکل اختیار کر رہا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): شبدان باکتی بیک، کرغز صحافی
’’ہم جانتے ہیں کہ شنگھائی تعاون تنظیم کو قائم ہوئے 25 برس ہوچکے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ان 25 برسوں کے دوران اس تنظیم نے دیگر ممالک کے ساتھ تعاون کے تحت بہت سے منصوبے شروع کئے ہیں۔
میرے خیال میں اس تنظیم کا مستقبل اور کرغزستان اور چین کے درمیان روابط کا مستقبل صرف بہتر ہی ہوگا کیونکہ ہمارے پاس بہت سے منصوبے ہیں۔ ہمارے درمیان ثقافتی روابط ہیں اور نسلی برادریوں کے تعلقات بھی موجود ہیں۔ ہم ایشیا کے ایک ہی خطے میں رہتے ہیں۔ اسی لئے میرا خیال ہے کہ دونوں ممالک کا مستقبل روشن ہوگا۔‘‘
بشکیک سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


