ہومتازہ ترینکمبوڈیا سے چین کو تازہ کیلوں کی براہ راست برآمد، کسانوں کی...

کمبوڈیا سے چین کو تازہ کیلوں کی براہ راست برآمد، کسانوں کی آمدن میں اضافہ

کمبوڈیا کے شمال مغربی صوبے اوڈار میانچے سے تعلق رکھنے والی 29 سالہ تنہا ماں لاک سِنتھ کی زندگی سال 2022 میں کیلے کے ایک مقامی باغ میں کام شروع کرنے کے بعد بدل گئی ہے۔

یہ باغ لونگ فروٹر ان لونگ وینگ اوڈار میانچے ایگریکلچر پارک کمپنی لمیٹڈ چلا رہی ہے جو تھائی لینڈ کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ کمپنی اس وقت ان لونگ وینگ ضلع میں تقریباً 530 ہیکٹر رقبے پر پیلے کیونڈش کیلوں کی کاشت کر رہی ہے جس سے 800 سے زائد مقامی رہائشیوں کو مستقل روزگار مل رہا ہے۔

اب کیلے پیک کرنے والی ٹیم کی سربراہ سِنتھ کو یاد ہے کہ جب انہوں نے کام شروع کیا تھا تو ان کے پاس تقریباً کچھ بھی نہیں تھا۔ تاہم مستقل آمدنی نے انہیں مالی طور پر مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے مستقبل میں سرمایہ کاری کرنے کے قابل بھی بنا دیا ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (خمیر): لاک سِنتھ، سربراہ، پیکنگ ٹیم، لونگ فروٹر ان لونگ وینگ اوڈار میانچے ایگریکلچر پارک کمپنی لمیٹڈ
’’میں سال 2022 سے یہاں کام کر رہی ہوں۔ جب سے میں نے یہاں کیلے کے باغ میں کام شروع کیا ہے میری زندگی پہلے کے مقابلے میں بہت بہتر ہوگئی ہے۔ مالک، کام اور تنخواہ سمیت سب اچھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کمبوڈیا سے زیادہ سے زیادہ کارکن یہاں کام کرنے آ رہے ہیں۔ کیلے کے اس باغ میں کام کرنے کے بعد میں قابل ہوئی ہوں کہ اپنی زمین اور دیگر قیمتی چیزیں خرید سکوں ۔ یہاں کام کرتے ہوئے تمام اخراجات نکالنے کے بعد میں ہر ماہ 8 لاکھ سے 9 لاکھ ریئل (200 سے 225 امریکی ڈالر) تک بچا لیتی ہوں۔ میں ان چینی سرمایہ کاروں کی شکر گزار ہوں جنہوں نے کیلے کا یہ باغ قائم کیا اور مجھے یہاں کام کرنے کا موقع دیا۔ اب میری زندگی پہلے کے مقابلے میں بہت بہتر ہو گئی ہے۔‘‘

24 سالہ چیٹ چمپُو کیلے دھونے والی کارکن ہیں۔ انہوں نے بھی کچھ ایسی ہی صورتحال بیان کی۔ فیکٹری میں کام شروع کرنے کے بعد مستحکم اجرت اور کام کے اچھےماحول کی بدولت ان کے مالی حالات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

یہاں ملازمت حاصل کرنے سے پہلے چمپُو اپنے والدین کے ساتھ رہتی تھیں جو کسان ہیں۔ انہیں یاد ہے کہ ان کے کے لئے گزر بسر کرنا انتہائی مشکل تھا اور اکثر انہیں روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لئے بھی مشکلات کا سامنا رہتا تھا۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (خمیر): چیٹ چمپُو، کیلے دھونے والی کارکن
’’جب سے میں کیلے کی اس فیکٹری میں کام پر آئی ہوں میری صورتحال پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ بہتر ہوگئی ہے کیونکہ یہ فیکٹری اچھی اجرت اور کام کرنے کے لئے واقعی بہت اچھا ماحول فراہم کرتی ہے۔ فیکٹری بہت سی سہولیات بھی فراہم کرتی ہے جن میں مفت رہائش اور بجلی، پانی سمیت دیگر بنیادی سہولیات شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں کرایہ ادا نہیں کرنا پڑتا۔
میں یہاں اپنی ملازمت سے بہت زیادہ مطمئن ہوں۔ میں ان چینی سرمایہ کاروں کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے کمبوڈیا میں سرمایہ کاری کی۔ اس سے روزگار کے بہت سے مواقع پیدا ہوئے اور کمبوڈیا کے لوگوں کی زندگی بہت بہتر ہوئی ہے۔‘‘

فیکٹری کے 30 سالہ پروڈکشن منیجر اوئن سام کیری نے بتایا کہ یہ پیلے رنگ کا کیلا کمبوڈیا میں کیلے کی ایک منفرد قسم ہے جو مقامی اقسام کے مقابلے میں اپنے اعلیٰ معیار اور بہتر ذائقے کی وجہ سے نمایاں ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 3 (خمیر): اوئن سام کیری، پروڈکشن منیجر، لونگ فروٹر ان لونگ وینگ اوڈار میانچے ایگریکلچر پارک کمپنی لمیٹڈ
’’کمپنی نے اپنے زیرِ کاشت رقبے کو مسلسل بڑھایا ہے اور اب سال 2026 میں یہ تقریباً 530 ہیکٹر تک پہنچ گیا۔ یہ پیلا کیلا کمبوڈیا میں ایک نایاب قسم ہے اور معیار اور ذائقے کے لحاظ سے یہ دیگر اقسام سے کہیں بہتر ہے۔ چینی منڈی کو برآمد کئے جانے والے پیلے کیلوں نے بے حد مقبولیت حاصل کی ہے اور ان کا ذائقہ واقعی بہت لذیذ ہے۔ چین کو پیلے کیلوں کی برآمد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ ہمارے اعداد و شمار کے مطابق سال 2024 میں ہم نے 24 ہزار ٹن کیلے برآمد کئے تھے جبکہ سال 2025 میں یہ مقدار بڑھ کر 34 ہزار ٹن سے تجاوز کر گئی۔ سال 2026 میں اب تک کمپنی چینی منڈی کو پیلے کیلے کی 22 ہزار ٹن مقدار برآمد کر چکی ہے۔
رواں برس کے باقی عرصے کو دیکھتے ہوئے میرا خیال ہے کہ طلب میں اضافے اور کمبوڈیا میں ہماری توسیع شدہ زیرِ کاشت زمین کے باعث برآمدات میں مزید اضافہ ہوتا رہے گا۔
اس پیلے کیلے کی کاشت اور چین کو اس کی براہِ راست برآمد نے قومی معیشت کو فروغ دیا اور روزگار کے مواقع پیدا کرکے مقامی لوگوں کے لئے آمدنی کے ذرائع پیدا کئے۔
لونگ فروٹر کمپنی نے 500 سے زائد مقامی لوگوں کو روزگار فراہم کیا ہے۔‘‘

کمبوڈیا سے پیلے کیلوں کی برآمد میں سال 2019 سے مسلسل تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ سال 2019 چین نے پہلی بار کمبوڈیا سے براہِ راست کیلے کی ترسیل کی اجازت دی تھی۔

پیلے کیلے کمبوڈیا کے ان پانچ تازہ پھلوں میں شامل ہیں جنہیں اس وقت چینی منڈی تک براہِ راست رسائی حاصل ہے۔ دیگر پھلوں میں آم، پائلِن لونگن، ناریل اور ڈریگن فروٹ شامل ہیں۔

اوڈار میانچے، کمبوڈیا سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں