ستائیس سے تیس اگست تک سابق امریکی استاد رونالڈ ساکولسکی نے چین میں شجرکاری کی علمبردار یِن یوژین کے ہمراہ وسطی چین کے صوبہ ہینان کے شہر لویانگ کا دورہ کیا۔ ساکولسکی نے چین میں صحرا زدگی پر قابو پانے کی کوششوں میں بھی تعاون کیا تھا۔
ساکولسکی اور یِن نے لونگ مین غاروں اور قدیم شہر لووئی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے چین کی روایتی ثقافت کے منفرد حسن کا مشاہدہ کیا۔
لویانگ نمبر دو فارن لینگویج اسکول میں ساکولسکی نے اساتذہ اور طلبہ کے نمائندوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے روایتی چینی گھنٹیاں بجانے کا تجربہ بھی کیا اور یِن یوژین سمیت دیگر دوستوں کے ساتھ مل کر دوستی کی علامت کے طور پر ایک پودا لگایا۔
انتیس اگست کو ساکولسکی اس اسکول واپس گئے جہاں وہ کبھی پڑھایا کرتے تھے۔ وہاں انہوں نے اپنے سابق ساتھیوں اور کئی برس پہلے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ سے دوبارہ ملاقات کی۔
ساؤنڈ بائٹ (انگریزی): رونالڈ ساکولسکی، سابق امریکی استاد
’’میں آپ لوگوں کو کبھی نہیں بھولا۔ ستائیس سال بعد جب میں واپس آیا اور آپ سب کو دیکھا تو مجھے احساس ہوا کہ میں نے اپنا کام پورا کیا۔ میں نے آپ میں سے ہر ایک کے اندر بیج بوئے تھے اور آج آپ تناور درخت بن چکے ہیں۔‘‘
لویانگ کا دورہ مکمل کرنے کے بعد ساکولسکی اور یِن بیجنگ روانہ ہو گئے۔
انیس سو ننانوے میں تدریسی تبادلے کے ایک پروگرام کے تحت چین میں قیام کے دوران ساکولسکی نے صحرا میں یِن کی شجرکاری کی کوششوں میں مدد کے لیے پانچ ہزار امریکی ڈالر جمع کیے تھے۔ اس مالی تعاون سے یِن اور ان کے خاندان نے پچاس ہزار سے زیادہ درختوں پر مشتمل جنگل پروان چڑھایا۔
لویانگ، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


