فلسطینی بچوں کے لئے چین کے تعاون سے جاری تعلیمی و نفسیاتی معاونت کا 10 ماہ پر مشتمل پروگرام پیر کے روز رملہ میں ایک اختتامی تقریب کے ساتھ مکمل ہو گیا۔ منتظمین نے مغربی کنارے میں تعلیمی سرگرمیوں میں حائل رکاوٹوں کے باعث بچوں کے ساتھ معاونت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ 10 ماہ کے اس پروگرام کے تحت فلسطینی پناہ گزین کیمپوں سے تعلق رکھنے والے 136 بچوں کو تعلیمی، غیر نصابی اور نفسیاتی معاونت فراہم کی گئی۔
یہ پروگرام فلسطینی پاپولر اسٹرگل فرنٹ سے وابستہ تنظیم ’’رضاکار برائے امید‘‘نے منعقد کیا جبکہ اس کے لئے مالی معاونت فلسطین میں قائم چینی دفتر کی جانب سے فراہم کی گئی تھی۔
پروگرام میں 71 لڑکیاں اور 65 لڑکے شریک تھے۔ شرکا نے مجموعی طور پر 803 گھنٹے کی تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ ان سرگرمیوں میں انگریزی، ریاضی اور سائنس کے اسباق کے علاوہ شطرنج، دبکے رقص، صحافت اور مصنوعی ذہانت کی ایپلی کیشنز سمیت مختلف غیر نصابی سرگرمیاں شامل تھیں۔
منتظمین کے مطابق 97 بچوں نے جذبات کے اجتماعی اظہار کی سرگرمیوں میں حصہ لیا جبکہ 28 مائیں والدین سے متعلق سرگرمیوں میں شریک ہوئیں۔
فلسطین میں قائم چینی دفتر کے سربراہ سن چھن اور فلسطینی پاپولر اسٹرگل فرنٹ کے سیکرٹری جنرل اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن احمد مجدلانی سمیت تقریباً 100 افراد اختتامی تقریب میں موجود تھے۔
تقریب کے دوران مجدلانی نے چین کے تعاون کو سراہتے ہوئے بچوں اور نوجوانوں میں سرمایہ کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فلسطینی معاشرے کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔
سن چھن نے کہا کہ فلسطین کے لئے چین کی امداد دونوں ممالک کے لوگوں کے درمیان دوستی میں جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے ’’رضاکارانہ تعاون‘‘ اور ’’امید‘‘ کو چینی امداد کے دو کلیدی تصورات کے طور پر اجاگر کیا۔
چھن نے امید ظاہر کی کہ پروگرام میں شریک بچے بڑے ہوکر اپنے وطن کی ترقی میں فعال کردار ادا کریں گے اور چین اور فلسطین کے عوام کے درمیان دوستی کے سفیر بنیں گے۔
رملہ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


