ٹوکیو (شِنہوا) جاپان نے ناکارہ فوکوشیما دائیچی ایٹمی پاور پلانٹ سے جوہری آلودہ فاضل پانی کے سمندر میں اخراج کے ایک نئے مرحلے کا آغاز کر دیا جو کہ 2023 میں شروع ہونے والے اس متنازعہ عمل کے بعد سے ایسا 23 واں اخراج ہے۔
جوہری پانی کے اخراج کا آغاز مقامی وقت کے مطابق پیر کے روز صبح 11 بج کر 29 منٹ پر ہوا۔ پاور پلانٹ چلانے والی کمپنی ’ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی ہولڈنگز‘ (ٹیپکو) کے مطابق تقریباً 7 ہزار 800 ٹن ایسا آلودہ پانی سمندر میں چھوڑا جائے گا جس میں تقریباً 12 کھرب بیکرل تابکار ٹریٹیم موجود ہے۔
یہ تازہ ترین اخراج جو مالی سال 2026 میں پانچواں مرحلہ بھی ہے، 18 ستمبر تک جاری رہنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
جاپان نے اگست 2023 میں بین الاقوامی برادری کے تحفظات اور مخالفت کے باوجود فوکوشیما دائیچی پاور پلانٹ سے جوہری آلودہ پانی سمندر میں بہانے کا یکطرفہ آغاز کیا تھا۔ اس سال 24 اگست کو اس متنازعہ عمل کے آغاز کے تین سال مکمل ہو گئے ہیں جس کے تحت اب تک مجموعی طور پر تقریباً ایک لاکھ 73 ہزار ٹن فاضل جوہری پانی بہایا جا چکا ہے۔
ٹیپکو کے اعداد و شمار کے مطابق 13 اگست تک فوکوشیما دائیچی پاور پلانٹ کے سٹوریج ٹینکس میں اب بھی تقریباً 12 لاکھ 35 ہزار ٹن جوہری آلودہ پانی موجود تھا۔


