ہومتازہ ترینامریکا ایران پر حملے کے امکان پر غور کر رہا ہے

امریکا ایران پر حملے کے امکان پر غور کر رہا ہے

انقرہ (لارڈ میڈیا) : ترکیہ میں امریکی سفیر اور شام و عراق کے لیے خصوصی نمائندے ٹام باراک نے امکان ظاہر کیا ہے کہ امریکا اس ہفتے کے اختتام پر ایران پر دوبارہ بمباری کرسکتا ہے۔ انہوں نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے جب میڈیا میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر ممکنہ بڑے حملے کی تیاریوں سے متعلق خبریں زیر بحث ہیں۔

ٹام باراک نے ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کے دوران ایران پر ممکنہ امریکی حملے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ ایسا بالکل ہوسکتا ہے۔ ان کا یہ انٹرویو اسرائیلی ریڈیو پر نشر کیا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ٹام باراک نے کہا کہ وہ اس معاملے پر بالکل واضح ہیں اور ان تک ہر وقت رسائی حاصل ہے۔ یہ معاملہ کئی ماہ سے زیر غور ہے۔

ٹام باراک کی ذمہ داریوں میں ایران شامل نہیں ہے، تاہم ان کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملے کے حوالے سے قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ وہ ایران میں مذہبی قیادت کی حکومت کا خاتمہ کردیں گے۔ یہ بیانات ایران کے خلاف دو مرتبہ جنگی کارروائیوں کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے خلاف فوجی حملے دوبارہ شروع کرنے کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران کے خلاف بمباری کا نیا سلسلہ 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے شروع نہیں کیا جائے گا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں