ہومتازہ ترینچین میں برفانی چیتوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کے تحفظ کے لئے...

چین میں برفانی چیتوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کے تحفظ کے لئے اقدامات مزید موثر بنا دیئے گئے

بیجنگ (شِنہوا) چین میں برفانی چیتوں کی آبادی 2013 میں تقریباً 2 ہزار 500 سے بڑھ کر اب لگ بھگ 5 ہزار ہو گئی ہے جو اس نایاب نسل اور اس کے قدرتی مسکن کے تحفظ کے لئے کی جانے والی کوششوں میں پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔

جنگلات اور سبزہ زاروں کی قومی انتظامیہ نے یہ تازہ اعداد و شمار برفانی چیتے کے عالمی دن کے موقع پر جاری کئے جو ہر سال 23 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔

برفانی چیتے عموماً سطح سمندر سے 3 ہزار سے 5 ہزار میٹر کی بلندی پر واقع دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں رہتے ہیں۔ یہ جانور بلند پہاڑی ماحولیاتی نظام کی صحت جانچنے کے لئے ایک اہم اشاریہ سمجھے جاتے ہیں۔ قدرتی تحفظ کی بین الاقوامی تنظیم کی خطرے سے دوچار انواع کی سرخ فہرست میں برفانی چیتے کو ’’غیر محفوظ‘‘ قرار دیا گیا ہے جبکہ چین میں اسے جنگلی حیات کے تحفظ کی اعلیٰ ترین سطح حاصل ہے۔

انتظامیہ کے مطابق دنیا میں برفانی چیتوں کی سب سے بڑی آبادی چین میں ہے اور اس نسل کے عالمی قدرتی مسکن کے 60 فیصد سے زیادہ حصے کو چین میں تحفظ حاصل ہے۔ ان کا مسکن 8 صوبائی سطح کے علاقوں میں پھیلا ہوا ہے جس کا مجموعی رقبہ تقریباً 20 لاکھ 80 ہزار مربع کلومیٹر ہے۔

چین نے 2013 سے برفانی چیتوں کے تحفظ کے لئے ایک منظم حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے۔ اس کے حفاظتی نیٹ ورک میں 2 قومی پارک اور برفانی چیتوں کے اہم مسکن میں واقع 78 دیگر اہم محفوظ علاقے شامل ہیں۔ 8 لاکھ مربع کلومیٹر سے زیادہ مسکن کو سخت تحفظ حاصل ہے جبکہ اس نسل کے ممکنہ مسکن کے تقریباً 40 فیصد حصے کا انتظام معیاری اصولوں کے تحت کیا جا رہا ہے۔

چین برفانی چیتوں کی آبادی کی نگرانی، ان کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے اور افزائش نسل کی سرگرمیوں کا مطالعہ کرنے کے لئے انفراریڈ کیمرے اور فضلے کے نمونوں کے ڈی این اے تجزیے جیسی جدید ٹیکنالوجیز بھی استعمال کر رہا ہے۔

انتظامیہ کے مطابق مسلسل حفاظتی کوششوں سے برفانی چیتوں کے قدرتی مسکن کے معیار اور ماحولیاتی نظام کی سالمیت میں بہتری آئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کی آبادی میں اضافہ اور افزائش نسل کی صلاحیت میں بھی بہتری دیکھی گئی ہے۔

رواں سال اپریل میں چین کے شمال مغربی پہاڑی سلسلے ہیلان میں نصب انفراریڈ کیمروں نے دوبارہ متعارف کرائی گئی ایک مادہ برفانی چیتے کو اس کے بچے کے ساتھ ریکارڈ کیا۔ یہ دنیا میں برفانی چیتوں کو دوبارہ کسی علاقے میں آباد کرنے کے ایسے منصوبے کا پہلا واقعہ تھا جس میں بچے پیدا ہوئے اور انہوں نے جنگل میں کامیابی سے پرورش پائی۔

برفانی چیتے ہیلان کے پہاڑی سلسلے کے مقامی جانور ہیں تاہم قدرتی مسکن کی تباہی اور انسانی مداخلت کے باعث 1950 کی دہائی میں اس علاقے سے ناپید ہو گئے تھے۔ ان کی آبادی بحال کرنے کے لیے اب تک 8 برفانی چیتے ان پہاڑوں میں چھوڑے جا چکے ہیں۔ اس کے بعد قدرتی طور پ آنے والوں سمیت کئی برفانی چیتوں نے اپنے علاقے قائم کر لیے ہیں اور خود شکار کرنا شروع کر دیا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں