شیونگ آن (شِنہوا) چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ گلوبل گورننس انیشی ایٹو پیش کئے جانے کے ایک سال بعد مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کے تصور کو عملی شکل دینے کے لئے کوششیں تیز کرنے پر زور دیا۔
وانگ یی نے چین کے شمالی صوبے ہیبے کے شیونگ آن نیو ایریا میں منعقدہ گلوبل گورننس فورم (شیونگ آن) 2026 کی افتتاحی تقریب سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چینی صدر شی جن پھنگ نے عالمی نظم و نسق کے خلا کو پر کرنے اور مشترکہ طور پر ایک بہتر مستقبل تشکیل دینے کے لئے گلوبل گورننس انیشی ایٹو کا اقدام پیش کیا تھا۔
وانگ یی نے کہا کہ تمام ممالک کو اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کو مشترکہ طور پر برقرار رکھنا چاہیے، سلامتی کونسل کی فوری ردعمل کی صلاحیت بہتر بنانی چاہیے اور ترقی پذیر ممالک کے جائز خدشات کا ازالہ کرنا چاہیے۔
چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ بڑی طاقتوں کو مساوات، ساکھ، اخلاقی اصولوں اور تعاون کے فروغ میں مثال قائم کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق یہی ایک ایسا عالمی نظام تشکیل دینے کا راستہ ہے جہاں تمام ممالک ہم آہنگی کے ساتھ رہ سکیں اور تمام قومیں ایک دوسرے کی قدر کرتے ہوئے ترقی کریں۔
وانگ یی نے کہا کہ تمام فریقین کو مشترکہ، جامع، تعاون پر مبنی اور پائیدار سلامتی کے تصور پر کاربند رہنا چاہیے اور امن کے تحفظ کے لئے ممالک کے درمیان اختلافات اور تنازعات کو پرامن ذرائع سے حل کرنا چاہیے۔
افتتاحی تقریب میں 90 سے زائد ممالک اور اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی و علاقائی تنظیموں کے تقریباً 400 نمائندوں نے شرکت کی۔ ان کا تعلق تزویراتی امور، سیاست، تعلیم و تحقیق، کاروبار، ذرائع ابلاغ اور نوجوانوں کے شعبوں سے تھا۔


