دوشنبے (شِنہوا) روسی۔تاجک (سلاوونک) یونیورسٹی کے پروفیسر رحمان اولماسوف نے کہا ہے کہ چینی صدر شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کردہ گلوبل گورننس انیشی ایٹو (جی جی آئی) عالمی نظام میں آنے والی حقیقی تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے اور زیادہ منصفانہ اور مساوی عالمی نظم ونسق کے نظام کے لئے بیشتر ممالک کی خواہشات کا عکاس ہے۔
شِنہوا کو انٹرویو میں اولماسوف نے اس اقدام کو حالیہ برسوں میں چین کے اہم ترین اقدامات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب عالمی نظم ونسق کے موجودہ نظام کو سنگین مسائل کا سامنا ہے۔
اولماسوف نے کہا کہ جغرافیائی سیاسی تنازعات، پابندیوں اور تجارتی جنگوں میں شدت آ رہی ہے جبکہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان فرق بڑھ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی مسائل سے نمٹنے میں موجودہ بین الاقوامی اداروں کی صلاحیت بھی تیزی سے ناکافی ہوتی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس صورت حال میں گلوبل گورننس کے نظام میں اصلاحات اور اسے بہتر بنانا زیادہ اہم ہو گیا ہے تاکہ بین الاقوامی ادارے نئے مسائل سے بہتر انداز میں نمٹ سکیں اور دنیا بھر کے ممالک کے مفادات اور خدشات کی عکاسی کر سکیں۔
اولماسوف نے نشاندہی کی کہ گلوبل گورننس انیشی ایٹو چین کے اس سے قبل پیش کردہ گلوبل ڈیویلپمنٹ انیشی ایٹو ، گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو اور عالمی سولائزیشن انیشی ایٹو پر استوار ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تمام اقدامات مل کر بین الاقوامی ترقی کے حوالے سے چین کا ایک مربوط تصور پیش کرتے ہیں جس کی بنیاد ترقی، سلامتی، تہذیبوں کے درمیان مکالمے اور گلوبل گورننس کے نظام کو بہتر بنانے کے باہمی تعلق پر ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ عالمی نظم ونسق کی بنیاد ممالک کے درمیان مساوات اور باہمی مشاورت کے ذریعے فیصلے کرنے کے اصول پر ہونی چاہیے جو گلوبل گورننس انیشی ایٹو کے بنیادی اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
ان کے خیال میں موثر عالمی نظم ونسق کے لئے مختلف سیاسی نظاموں، تہذیبی روایات اور قومی مفادات کے حامل ممالک کو بھی اپنے اختلافات کا احترام کرتے ہوئے مکالمے کو فروغ دینا اور مشترکہ نکات تلاش کرنا ہوں گے۔
اولماسوف نے مزید کہا کہ اختلافات کے باوجود تعاون قائم کرنے کی صلاحیت جدید کثیرجہتی نظم ونسق کے اہم ترین عناصر میں سے ایک ہے۔


