واشنگٹن (شِنہوا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی حملوں کا امکان ظاہر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکہ ایران کا تمام تیل اپنے قبضے میں لے سکتا ہے یا پورے ملک پر بھی کنٹرول حاصل کر سکتا ہے۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے فلوریڈا میں ایک عوامی اجتماع کے لئے روانہ ہوتے ہوئے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران اب زیادہ کچھ کرنے کے قابل نہیں رہا۔ اگر ہم چاہیں تو اس کا تمام تیل اپنے قبضے میں لے سکتے ہیں۔ ہم پورے ملک پر قبضہ کر سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز کے اس بیان کہ ایران کے ساتھ تنازع مزید ایک سال تک جاری رہ سکتا ہے، کے بارے میں پوچھے جانے پر ٹرمپ نے کہا کہ ہم اسے بہت جلد ختم کر سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اسے مکمل طور پر ختم کرنا چاہتے ہیں یا اسے آہستہ آہستہ کمزور ہونے دینا چاہتے ہیں؟
بعد ازاں فلوریڈا میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی کا امکان بھی ظاہر کیا۔
انہوں نے شرکاء سے خطاب میں کہا کہ ہم ایک اور مختصر آپریشن ایپک فیوری کر سکتے ہیں۔ ان کا اشارہ ایران کے خلاف 28 فروری کو اسرائیل کے ساتھ مل کر شروع کئے گئے بڑے پیمانے کے امریکی فوجی آپریشن کی جانب تھا۔
ٹرمپ کے تازہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب اطلاعات کے مطابق امریکی اور اسرائیلی افواج نے امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملوں کے منصوبے تیار کر لئے ہیں۔ تاہم امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ابھی واضح نہیں کہ آیا ٹرمپ بالآخر ایک اور فوجی کارروائی کی منظوری دیں گے یا نہیں۔


