بندر سری بگاوان (شِنہوا) چین اور برونائی کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 35 ویں سالگرہ کے موقع پر برونائی کے دارالحکومت بندر سری بگاوان میں مکالمے کا انعقاد کیا گیا۔
شِنہوا نیوز ایجنسی کے ایشیا پیسیفک ریجنل بیورو، برونائی میں چینی سفارت خانے اور ریڈیو ٹیلی ویژن برونائی نے تقریب کا مشترکہ اہتمام کیا۔ تقریب میں افتتاحی سیشن کے علاوہ مصنوعی ذہانت اور ابلاغ، ثقافتی تبادلوں اور عوامی روابط کے موضوعات پر خصوصی مذاکرے شامل تھے۔ دونوں ممالک کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے تقریباً 100 نمائندوں نے مکالمے میں شرکت کی۔
چین اور برونائی کے سرکاری اداروں، ذرائع ابلاغ، جامعات اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے گزشتہ 35 برسوں کے دوستانہ تبادلوں کا جائزہ لیا اور مشترکہ مستقبل سے وابستہ چین اور برونائی کی برادری کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا۔
برونائی میں چین کے سفیر چن شاؤچھون نے افتتاحی خطاب میں دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی پیش رفت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کے ادارے اور تھنک ٹینکس عوام کے درمیان جذباتی و فکری تبادلوں اور باہمی تفہیم کے فروغ میں اہم پل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ ادارے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلوں، عوامی روابط اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لئے طویل عرصے سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے دونوں ممالک کے ماہرین، دانشوروں اور صحافیوں پر زور دیا کہ وہ نئے دور میں چین اور برونائی کی دوستی کی دلچسپ کہانیاں اجاگر کریں اور مشترکہ مستقبل سے وابستہ چین اور برونائی کی برادری کے فروغ اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دوستی مزید مضبوط بنانے میں نئی خدمات انجام دیں۔
برونائی یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر محمد اسکندر بن پینگیران حاجی پیترا نے کہا کہ سفارتی تعلقات کی 35 ویں سالگرہ ایک اہم سنگ میل ہے جو چین اور برونائی کے درمیان بڑھتے ہوئے باہمی اعتماد، احترام اور مضبوط دوستی کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز نئے مواقع پیدا کر رہی ہیں اور برونائی یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی دوطرفہ تعاون کے مزید بہتر نتائج کے حصول میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔


