ہومتازہ ترینچین میں اختراع کی رفتار تیز، ترقی کے نئے محرکات مضبوط ہو...

چین میں اختراع کی رفتار تیز، ترقی کے نئے محرکات مضبوط ہو رہے ہیں

بیجنگ (شِنہوا) گزشتہ سال چین کی اختراعی صلاحیت میں مسلسل اضافہ ہوا، اختراع کے لئے سازگار ماحول بہتر ہوا اور ترقی کے نئے محرکات کو فروغ ملا، جس سے اعلیٰ معیار کی ترقی کو مضبوط سہارا حاصل ہوا۔

قومی ادارہ شماریات (این بی ایس) کی جانب سے جاری ہونے والی سالانہ رپورٹ کے مطابق 2025 میں چین کا اختراع کا اشاریہ 185.5 رہا، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 6.4 فیصد زائدہے۔ گزشتہ سال اختراع کے ماحول، سرمایہ کاری، نتائج اور اثرات کی پیمائش کرنے والے تمام ذیلی اشاریوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ متعدد اہم اشاریوں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ان میں سرکاری بجٹ میں سائنس و ٹیکنالوجی کے لئے مختص رقوم کا تناسب، کاروباری اداروں کی عملی آمدنی کے مقابلے میں تحقیق و ترقی پر اخراجات، جی ڈی پی میں تحقیق و ترقی کے اخراجات کا حصہ، تحقیق و ترقی سے وابستہ ہر 10 ہزار اہلکاروں کے مقابلے میں اعلیٰ قدر کی حامل تخلیقات کی تعداد، مجموعی محنت کی پیداواری صلاحیت اور اشیاء کی برآمدات میں ہائی ٹیک مصنوعات کا تناسب شامل ہیں۔

چین میں اختراع کی سرگرمیوں میں مجموعی طور پر تیزی آ رہی ہے۔ ڈیپ سیک کی عالمی سطح پر نمایاں کامیابی سے لے کر انسان نما روبوٹس کی شاندار کارکردگی تک چین کی سائنسی کامیابیاں تیزی سے صنعتی استعمال میں ڈھل رہی ہیں۔ مصنوعی ذہانت، نئی توانائی اور نئے مواد سمیت متعدد شعبوں میں ترقی کی رفتار مسلسل مضبوط ہے۔

2026 کی پہلی 3 سہ ماہیوں کے دوران ہائی-اینڈ مینوفیکچرنگ، ڈیجیٹل اور ذہین معیشت اور جدید خدمات پر مشتمل ترقی کے نئے محرکات نے چین کی اقتصادی ترقی میں 40 فیصد سے زیادہ حصہ ڈالا۔

قومی ادارہ شماریات کے ترجمان ماؤ شینگ یونگ نے کہا کہ ’’ترقی کے نئے محرکات میں تیز رفتار اضافہ رواں سال چین کی اقتصادی کارکردگی کی ایک نمایاں خصوصیت ہے۔‘‘

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں