ہومتازہ ترینسلامتی کونسل میں اصلاحات کے ذریعے ترقی یافتہ ممالک کی زیادہ نمائندگی...

سلامتی کونسل میں اصلاحات کے ذریعے ترقی یافتہ ممالک کی زیادہ نمائندگی کا مسئلہ حل ہونا چاہیے، چینی مندوب

اقوام متحدہ (شِنہوا) اقوام متحدہ میں چین کے مندوب نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کا بنیادی مقصد ترقی یافتہ ممالک کی ضرورت سے زیادہ نمائندگی کی صورتحال کو تبدیل کرنا ہے۔

اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فو کانگ نے کہا کہ سلامتی کونسل میں اصلاحات کے لئے ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی اور آواز کو مضبوط بنانے پر توجہ دی جانی چاہیے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں سلامتی کونسل میں اصلاحات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اجتماعی سلامتی کے نظام کے مرکزی ادارے کی حیثیت سے سلامتی کونسل کو عالمی سیاست کی حقیقی صورتحال کی عکاسی کرنی چاہیے۔ ترقی پذیر ممالک اور آزاد خارجہ پالیسی رکھنے والے چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک کو سلامتی کونسل کے فیصلوں میں حصہ لینے کے مزید مواقع ملنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر افریقہ کے ساتھ ماضی میں ہونے والی ناانصافی کا ازالہ کیا جانا چاہیے اور افریقی ممالک کے مطالبات کو ترجیح دیتے ہوئے ان کے لئے خصوصی انتظامات کئے جانے چاہئیں۔

فو کانگ نے کہا کہ اصلاحات کا بنیادی مقصد سلامتی کونسل میں شمالی اور جنوبی خطوں کے درمیان نمائندگی کے عدم توازن، ایک ہی گروپ کی طویل عرصے سے بالادستی اور ترقی یافتہ ممالک کی ضرورت سے زیادہ نمائندگی کی صورتحال کو تبدیل کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ رکن ممالک کے درمیان اتفاق رائے کا احترام کرنے اور تمام امور کو ایک جامع حل کے تحت طے کرنے کی ضرورت ہے۔

فو کانگ کے مطابق سلامتی کونسل میں اصلاحات ایک جامع اور منظم عمل ہے جس میں پانچوں اہم موضوعاتی شعبے ناگزیر ہیں۔ اس لئے تمام معاملات کو ایک جامع پیکیج کی صورت میں حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فریقین کے درمیان واضح اتفاق رائے قائم ہونے سے پہلے کسی بھی متفقہ ماڈل کو عجلت میں منظور کرنے، تحریری مسودے کی بنیاد پر مذاکرات شروع کرنے یا مصنوعی ڈیڈ لائن مقرر کرنے کی کوششیں، نیز مرحلہ وار یا جزوی طریقہ کار اختیار کرنا فریقین کے درمیان اختلافات اور تنازعات کو مزید بڑھائے گا۔ یہ اقدامات اقوام متحدہ کی طویل مدتی ترقی اور رکن ممالک کے مشترکہ مفادات کے لئے سودمند نہیں ہوں گے۔

فو کانگ نے کہا کہ بین الحکومتی مذاکرات (آئی جی این) ہی اصلاحات کے لئے بنیادی فورم ہونے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ بین الحکومتی مذاکرات ہی وہ واحد جائز پلیٹ فارم ہیں جہاں رکن ممالک سلامتی کونسل میں اصلاحات پر تبادلہ خیال کر سکتے ہیں اور اس کا کردار کسی دوسرے ذریعے سے پورا نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ چین اس پلیٹ فارم پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے تمام فریقوں کے درمیان مذاکرات اور مشاورت جاری رکھنے کی حمایت کرتا ہے اور کسی متبادل پلیٹ فارم کے قیام کی کوششوں کی سخت مخالفت کرتا ہے۔

چینی مندوب نے کہا کہ چین نے نوٹ کیا ہے کہ سلامتی کونسل میں علاقائی بنیادوں پر باری باری نمائندگی کرنے والی نشستیں مختص کرنے میں رکن ممالک کی بڑھتی ہوئی دلچسپی سامنے آ رہی ہے۔ سلامتی کونسل کی موجودہ نشستوں کی دونوں اقسام میں توسیع کی تجاویز کے مقابلے میں یہ تصور زیادہ منصفانہ اور جمہوری ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین امید کرتا ہے کہ رکن ممالک اصلاحات کے نئے تصورات پر تفصیلی بحث جاری رکھیں گے، اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھائیں گے اور ایسے اصلاحاتی طریقوں پر فعال انداز میں غور کریں گے جنہیں رکن ممالک کی وسیع حمایت حاصل ہو۔

فو کانگ نے کہا کہ چین بین الحکومتی مذاکرات کے دائرہ کار میں تمام فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرنے، ایک دوسرے کا احترام کرنے اور برابری کی بنیاد پر کھلے دل سے تبادلہ خیال اور مشاورت جاری رکھنے کے لئے تیار ہے تاکہ سلامتی کونسل میں اصلاحات کو رکن ممالک کے مشترکہ مفادات اور اقوام متحدہ کے مشن کی مستحکم ترقی کے لئے موزوں سمت میں آگے بڑھایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ چین زیادہ منصفانہ اور مساوی عالمی نظم نسق کے قیام میں مثبت کردار ادا کرنے کے لئے بھی تیار ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں