والیٹا (شِنہوا) مالٹا کے وزیر برائے زراعت، ماہی گیری اور غذائی رسد اینٹون ریفالو نے کہا ہے کہ چین اور مالٹا کے درمیان ماہی گیری کے شعبے میں تعاون سے دونوں ممالک کو یکساں فائدہ پہنچا ہے۔
ریفالو نے شِنہوا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ 2023 میں پہلا معاہدہ ہونے سے قبل بلیوفن ٹونا مچھلی صرف چین کی بین الاقوامی درآمدات نمائش میں رکھی جاتی تھی۔ اب یہ چین میں ایک تجارتی جنس بن چکی ہے۔ مالٹا بحیرہ روم میں بحر اوقیانوس کی بلیوفن ٹونا مچھلی کی فارمنگ کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے۔
مالٹا کے ماہی گیری کے شعبے کے لئے چینی منڈی کھلنے کو ایک انتہائی اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے ریفالو نے کہا کہ اس سے مالٹا کے برآمد کنندگان کو اپنی منڈیوں میں تنوع پیدا کرنے اور زیادہ صارفین تک رسائی حاصل کرنے کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے اس تعاون کو دونوں ممالک کے لئے فائدہ مند صورتحال قرار دیتے ہوئے کہا کہ مالٹا چین کے ساتھ مزید تجارتی اور اقتصادی معاہدوں کا خواہاں ہے۔
ریفالو نے یورپ کے لئے بھی اس تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کا رکن ہونے کے ناطے مالٹا دیگر رکن ممالک کو دکھا سکتا ہے کہ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کتنے اہم اور تزویراتی ہیں۔
وزیر نے کہا کہ میں نے ہمیشہ چین اور اس کے عوام کو نیک نیت سمجھا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر ملک نہ صرف یورپی یونین بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک دوسرے سے بہت کچھ حاصل کر سکتا ہے اور بہت کچھ دے بھی سکتا ہے۔
2023 سے دونوں ممالک کے درمیان ماہی گیری کے شعبے میں تعاون مسلسل وسعت اختیار کر رہا ہے۔ نومبر 2025 میں ریفالو نے شنگھائی میں آٹھویں چین بین الاقوامی درآمدات نمائش میں شرکت کے لئے ایک وفد کی قیادت کرتے ہوئے چین کا دورہ کیا۔ اس دورے میں بیجنگ میں ایک معاہدے پر دستخط کئے گئے جس کے تحت مالٹا سے قدرتی طور پر پکڑی جانے والی مچھلی اور اس سے تیار کردہ مصنوعات کو پہلی بار چینی منڈی میں داخلے کی اجازت ملی۔
وزیر نے مزید بتایا کہ مالٹا اور چین کے کسٹمز کے جنرل ایڈمنسٹریشن کے حکام تیسرے معاہدے پر کام کر رہے ہیں جس کے تحت بلیوفن ٹونا مچھلی کے ضمنی اجزا سے تیار کردہ مچھلی کے تیل اور مچھلی کی خوراک کی برآمدات کی اجازت دی جائے گی۔
اس تعاون سے روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں بھی مدد ملی ہے۔ مالٹا کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اپریل کے اختتام تک ماہی پروری کے شعبے میں 532 افراد برسر روزگار تھے۔


